بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے۔ 31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

مزید پڑھیں: نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک بچے کے سوا خاندان کے تمام افراد شہید

امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں۔ سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات

امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں