دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی کو اسرائیل کی جانب سے نام نہاد ’اسٹیٹ لینڈ‘ قرار دینے اور 1967 کے بعد پہلی بار وسیع پیمانے پر اراضی کی رجسٹریشن و ملکیت کے طریقہ کار کی منظوری دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدام غیر قانونی بستیوں کے قیام کو تیز کرنے، زمینوں پر قبضہ مستحکم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی خود مختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اسے بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے منافی اقدام کہا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ، یمن میں امن پر زور،ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ 2 ریاستی حل کو کمزور اور خطے میں منصفانہ و جامع امن کے امکانات کو متاثر کرتا ہے۔ وزرا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر اور واضح اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کی حمایت کرے۔













