عراق کے صحراؤں کی گہرائی میں لاپتا شہر چاراکس اسپاسینو آخرکار دریافت ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی: پریمی جوڑوں کے لیے اہم ترین محراب ’لو آرچ‘ نے ویلنٹائن ڈے پر خود کو سمندر کے سپرد کردیا
ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے تک زمین کے نیچے چھپا رہا تھا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ شہر سکندر اعظم کی آخری پرعزم بستیوں میں سے ایک تھا۔
آرکیالوجی نیوز کے مطابق کبھی دریائے دجلہ کے کنارے ایک مصروف تجارتی مرکز رہنے والا چاراکس اسپاسینو اب کم از کم ڈیجیٹل طور پر دوبارہ سامنے آیا ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر توقع سے کہیں زیادہ بڑا تھا جہاں گلیاں، مندر اور حتیٰ کہ صنعتی ورکشاپس بھی نظر آنے لگیں۔
مورخین کے لیے یہ ایسا ہے جیسے قدیم دنیا کا ایک بالکل نیا باب کھل رہا ہو جو طویل عرصے تک گرد و غبار اور وقت کے نیچے دفن رہا تھا۔
مزید پڑھیے: سکندر اعظم کے مجسمہ سمیت سیکڑوں چوری شدہ نوادرات برآمد
چاراکس اسپاسینو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد سکندر اعظم کی وفات سے صرف چند سال پہلے قبل مسیح 324 میں رکھی گئی۔ ممکنات میں سے ہے کہ وہ اسے میسوپوٹیمیا پر کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک دریائی سنگم پر قائم کرنا چاہتا ہو۔
کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ اس کا اصل نام الیگزینڈریا تھا پھر بعد میں جب سیلابوں اور تنازعات نے شہر کو تباہ کر دیا تھا تب ایک مقامی بادشاہ نے اسے دوبارہ تعمیر کر کے چاراکس اسپاسینو کا نام دیا۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور فاتحین بھی فطرت اور انسانی تنازعات کو اپنے شہروں کو مٹا دینے سے نہیں روک سکے۔
شہر کا محل وقوع تجارت کے لیے بالکل موزوں معلوم ہوتا ہے۔ یہاں دریا آپس میں ملتے تھے، اور تاجر میسوپوٹیمیا اور اس سے آگے تک سامان منتقل کر سکتے تھے۔
مزید پڑھیں: مصر میں ڈوبا ہوا قدیم شہر دریافت، غوطہ خوروں کو سمندر کی تہہ سے کیا چیزیں ملیں؟
جدید آثار قدیمہ کے ماہرین نے اندھا دھند کھدائی نہیں کی۔ ڈرونز نے اوپر سے اڑ کر ہزاروں ہوائی تصاویر کھینچیں۔ میگنیٹومیٹرز نے مٹی کو اسکین کیا تاکہ دفن شدہ ساختوں کا پتا چل سکے۔
ماہرین نے بتایا کہ اس امتزاج کو استعمال کر کے شہر کا ڈیجیٹل نقشہ بنایا گیا۔ سائنسدان بغیر زمین کو نقصان پہنچائے اب شہر کی ترتیب جانتے ہیں جس میں وسیع سڑکیں، زیادہ تر قدیم شہروں سے بڑے رہائشی بلاک، مندر اور بھٹوں والے ورکشاپس شامل ہیں۔
چاراکس اسپاسیناؤ محض ایک نمائش کا حصہ نہیں تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے مبینہ طور پر 500 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے کا جائزہ لیا جہاں مٹی کے برتن، اینٹیں اور صنعتی ملبہ بکھرا ہوا تھا۔
چاراکس اسپاسیناؤ کو دریافت کرنا صرف آثار قدیمہ کی دلچسپی نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ کے کچھ پہلوؤں کو دوبارہ شکل دے سکتا ہے جنہیں ہم جانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وادی سندھ کی تحریریں سمجھنے پر ایک ملین ڈالر انعام کا اعلان، مگر ان کو سمجھنا مشکل کیوں؟
سکندر اعظم کی سلطنت وسیع تھی مگر ہر شہر کا ایک مخصوص کردار تھا۔ چاراکس اسپاسیناؤ ڈیجیٹل نقشوں کے نیچے ابھرتا ہے۔ ہر کوئی اسے نہیں دیکھ پائے گا مگر کم از کم اب یہ ایک راز نہیں رہا۔ اس کی گلیاں، ورکشاپس اور مندر ہزار سال پرانی کہانیاں سناتے ہیں۔













