امریکا اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ورک فورس تعاون پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر رہنما ہے، تاہم پاکستان اپنی نوجوان، ہنر مند اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر افرادی قوت کے ذریعے ایک منفرد اور قیمتی اثاثہ فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 240 ملین سے زیادہ ہے، جو اسے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے۔ اس میں سے تقریباً 2 تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، جو عالمی سطح پر کام کرنے والی نوجوان آبادی کا قریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی آزادی کے 250 سال مکمل، پاکستان امریکا دوطرفہ تعاون میں اضافہ
’10 سے 24 سال کے درمیان 65.4 ملین نوجوانوں کے ساتھ پاکستان جنوب ایشیا میں سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔‘
ملازمت یافتہ آبادی میں 76 فیصد (42.6 ملین) ہنر مند ہیں، جن میں سے 8.7 ملین افراد آئی ٹی، انجینیئرنگ اور بزنس سروسز جیسے اعلیٰ ہنر والے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
پاکستان دنیا کے اہم فری لانسنگ ممالک میں شامل ہے اور سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی سروسز میں نمایاں کارکردگی رکھتا ہے۔
ملک میں 116 ملین انٹرنیٹ صارفین اور 190 ملین اسمارٹ فون کنیکشنز موجود ہیں، جو ایک وسیع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو سپورٹ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت امریکی کمپنیوں کے لیے اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔
’ان وسائل سے استفادہ کرکے امریکی ادارے اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتے ہیں جبکہ سستی، انگریزی بولنے والی اور اعلیٰ ہنر مند افرادی قوت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا مثبت اور تعمیری روابط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی
رپورٹ کے مطابق یہ تعاون نہ صرف امریکی کاروبار کے لیے مفید ہوگا بلکہ پاکستان کی ترقی میں بھی مدد فراہم کرے گا اور اسے عالمی ویلیو چینز میں ایک لازمی پارٹنر کے طور پر مستحکم کرے گا۔














