سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا تھا۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی جانب سے قلمبند کیے گئے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات آئندہ 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور وقار کی حقدار ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں معمولی باتوں پر خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں منشیات کی لت بھی شامل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی جیسے مقدس رشتوں کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی شہریوں سے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ریاست جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونے والے ظلم کو روکے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی و آزادی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم وارث مسیح منشیات کا عادی تھا اور اپنی بیوی جمیلہ بی بی سے اکثر جھگڑا کرتا تھا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 6 اہم کیسز کی سماعت آج ہوگی
6 جولائی 2015 کی آدھی رات کو اس نے اپنی بیوی اور 2 کمسن بچوں، رمشا اور رمیش پر ڈنڈوں سے حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق جمیلہ بی بی کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کے باعث ہوئی۔
ملزم کی بیٹی رمشا وارث مسیح نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے والد کے خلاف گواہی دی۔
مزید پڑھیں: جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابلِ قبول، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ جب بیوی گھر کے اندر مردہ پائی جائے تو حالات کی وضاحت کرنے کی بنیادی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے۔
تاہم ملزم ٹرائل کے دوران خاموش رہا اور اپنی بیوی کی غیر فطری موت کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وقوعے کے بعد ملزم کا مفرور ہونا، تدفین میں شریک نہ ہونا اور پولیس کو اطلاع نہ دینا اس کے خلاف سنگین شواہد ہیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے ایس ایچ او کے لیے بخدمت جناب لکھنے پر پابندی عائد کردی
ٹرائل کورٹ نے وارث مسیح کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قیدِ بامشقت اور دیت کا 5 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی اپیل خارج کر دی۔














