قومی ہاکی ٹیم پرو ہاکی لیگ میں شرکت کے بعد آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچ گئی تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کوئی نمائندہ کھلاڑیوں کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہ پہنچا اور نہ ہی ٹیم کو لینے کے لیے کوئی سرکاری گاڑی پہنچی۔ بعض کھلاڑیوں نے دوستوں سے لفٹ لی جبکہ دیگر نے آن لائن ٹیکسی سروس بک کرائی۔
سوشل میڈیا صارفین اس پر پاکستان اسپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن پر شدید غصہ کرتے نظر آئے۔ ایک صارف نے طنزیہ تبصرہ کیا کہ وسائل اور پروٹوکول شاید بھارت کو شکست دے کر وطن لوٹنے والی کرکٹ ٹیم کے لیے مختص ہوں گے۔
پاکستان ہاکی ٹیم آسٹریلیا سے واپس لاہور پہنچی تو فیڈریشن کا کوئی عہدیدار ہاکی کھلاڑیوں کو ریسیو کرنے آتا یہ تو دور کی بات گاڑی تک نہیں بھیجی گئی کہ عزت سے گھر پہنچ جائیں
کھلاڑیوں نے ہم نیوز کے رپورٹر علی رضا رحمانی سے بات کی ۔ ایک کھلاڑی نے کہا میں دوسرے سے لفٹ لوں گا تو دوسرے… pic.twitter.com/HZjMdRvLUx— Umar Daraz Gondal (@umardarazgondal) February 17, 2026
فضل اللہ نامی صارف نے کہا کہ فیڈریشن والے سمجھ رہے تھے کہ یہ کھلاڑی واپس نہیں آئیں گے۔
فیڈریشن والے سمجھ رہے تھے کہ یہ واپس نہیں آئیں گے
— Fazalullah Mohmand (@fazalmohmand) February 18, 2026
ابو بکر لکھتے ہیں کہ افسوس کہ ہمارے قومی کھیل کے لیے اتنے پیسے بھی نہی ہیں کہ ہم ان کو آرام سے ان کے گھر پہنچا دیں۔
افسوس کہ ہماری قومی کھیل کے لیے اتنے پیسے بھی نہی ہیں کہ ہم ان کو آرام سے ان کے گھر پہنچا دیں
— Abu Bakar (@hafiz_abu_bakar) February 17, 2026
جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا قومی کھیل ہے اور قومی ٹیم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہےاس پر شرم آنی چاہیے۔
ورلڈکپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں ناکامی کے بعد وطن واپسی پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں قیام کے دوران کھلاڑیوں سے کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، خود کھانا پکانا پڑا اور بعض اوقات سڑکوں پر بھی رہنا پڑا۔
عماد بٹ کا کہنا تھا کہ صبح اٹھ کر اگر کھلاڑی پہلے کچن اور برتن صاف کرے گا تو میدان میں کیا کارکردگی دکھائے گا؟ جو مشکلات ہم نے برداشت کی ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ کھلاڑی 3 وقت کا کھانا 115 ڈالر میں خود مینیج کریں۔
کیپٹن پاکستان ہاکی ٹیم عماد بٹ کی لاہور ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو ۔۔کہتے ہیں کہ
آسٹریلیا کے دورے کے دوران سڈنی ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد 13 گھنٹے تک لاوارثوں کی طرح رہے ۔میں نے اور پلیرز نے ویڈیو بنا کر شئیر کی۔ ہم برتن بھی خود دھوتے رہے— Mohsin Bilal (@mohsinsami85) February 17, 2026
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے متعدد وعدے خلافی کی اور جھوٹ بولا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہاکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔













