بھارت میں پابندی کے باوجود کارپوریٹ فنڈنگ میں اضافہ، بی جے پی سب سے بڑی بینیفیشری

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فروری 2024 میں بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع انتخابی بانڈز اسکیم کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے تحت افراد اور کارپوریشنز سیاسی جماعتوں کو گمنام چندہ دے سکتے تھے۔

تاہم 2018 میں نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس اسکیم کے ذریعے 2018 سے 2024 تک تقریباً 2 ارب ڈالر سیاسی جماعتوں کو منتقل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ہماری مانگیں پوری کرو، انڈیا میں 30 کروڑ ملازمین کی ’بھارت بند‘ ہڑتال کا آغاز

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس میں نصف سے زائد رقم حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کو ملی، جو 2014 سے مرکز میں برسراقتدار ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ سیاسی چندہ عطیہ دہندگان کو پالیسی سازی تک رسائی اور اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔

شفافیت کے حامیوں نے اس فیصلے کو جمہوریت کے حق میں اہم قدم قرار دیا تھا۔

تاہم آج 2 برس بعد دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی کمپنیوں کی سیاسی فنڈنگ میں کمی نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: افغانستان اور بھارت پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث، خطے کی صورتحال پر سوالات اٹھ گئے

بانڈز کے خاتمے کے بعد کارپوریشنز نے 2013 میں متعارف کرائے گئے ’الیکٹورل ٹرسٹس‘ کا رخ کیا، جو مننموہن سنگھ کی کانگریس حکومت کے دور میں قائم کیے گئے تھے۔

ان ٹرسٹس میں عطیہ دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا لازمی ہے مگر اس نسبتاً شفاف نظام نے بڑی رقوم کی ادائیگی کا رجحان کم نہیں کیا۔

مالی سال 25-2024 میں 9 الیکٹورل ٹرسٹس نے مجموعی طور پر 459.2 ملین ڈالر سیاسی جماعتوں کو دیے، جن میں سے 378.6 ملین ڈالر یعنی 83 فیصد بی جے پی کو ملے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس کو تقریباً 36 ملین ڈالر یعنی 8 فیصد جبکہ باقی رقم دیگر جماعتوں کو ملی۔

واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار سپریم کورٹ کی پابندی کے بعد پہلے مکمل مالی سال کے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت: صحافی کو ایڈانی گروپ کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس پر ایک سال قید اور جرمانے کی سزا

ٹاٹا گروپ اور موروگپا گروپ جیسے 2 بڑے صنعتی گروپ نمایاں اس نوعیت کی سیاسی فنڈنگ میں نمایاں رہے۔

الیکشن کمیشن میں جمع دستاویزات کے مطابق ٹاٹا گروپ سے منسلک 15 کمپنیوں کے تعاون سے قائم پروگریسو الیکٹورل ٹرسٹ نے 2024 کے عام انتخابات سے قبل تقریباً 110.2 ملین ڈالر 10 جماعتوں میں تقسیم کیے، جن میں سے 91.3 ملین ڈالر بی جے پی کو ملے۔

ٹاٹا گروپ کے عطیات ایسے وقت میں سامنے آئے جب حکومت نے گجرات اور آسام میں 15.2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سیمی کنڈکٹر منصوبوں کی منظوری دی۔

مزید پڑھیں: بھارتی پروپیگنڈا مشینری بے نقاب: وزارتِ دفاع کا ڈی پی آر کیسے بیانیہ بناتا ہے اور اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟

جن کے ساتھ تقریباً 5.3 ارب ڈالر کی حکومتی مراعات بھی شامل تھیں، دونوں ریاستوں میں بی جے پی برسر اقتدار ہے۔

اسی طرح فروری 2024 میں حکومت نے موروگپا گروپ کی کمپنی سی جی پاور کے سیمی کنڈکٹر منصوبے کی منظوری دی، جس پر تقریباً 870 ملین ڈالر لاگت آئے گی اور اسے بھی مرکزی و ریاستی مراعات حاصل ہوئیں۔

مزید برآں مورگپا گروپ کی ایک اور کمپنی کی جانب سے دی گئی 15 ملین ڈالر سے زائد رقم مکمل طور پر بی جے پی کو منتقل کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’آئی سی بی ایم‘ کا کامیاب تجربہ کرلیا

’کیا سنی دیول کو مسلمان کے کردار میں نہیں دیکھ سکتے؟‘، ’بٹوارا 1947‘ کی ناکامی پر شبانہ اعظمی حیران

لاہور میں طویل دھرنے کا عندیہ، ’اٹھانے کی کوشش کی تو اپنا شوق پورا کرلیں‘، حافظ نعیم

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں