سپریم کورٹ میں ہتکِ عزت کیس کے سلسلے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل میاں محمد حسین پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں کیس کے ایشوز ہی فریم نہیں کیے گئے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی
جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ جب ایشوز فریم نہیں ہوئے تھے تو آپ نے جرح کیوں کی؟ مزید ریمارکس دیتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ جب ایشوز طے نہیں ہوئے تو گواہان کیسے پیش کیے گئے؟
وکیل نے جواب دیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر جرح نہ کی گئی تو یہ حق ختم ہو جائے گا، اسی لیے جرح کی گئی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں کیس اختتامی مراحل میں ہے اور استدعا کی کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کو فیصلہ سنانے سے روکے۔
مزید دلائل دیتے ہوئے وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ہتکِ عزت کیس کا ٹرائل ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کرتی ہے، تاہم اس کیس میں ٹرائل ایڈیشنل سیشن کورٹ نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بنیاد پر عدالت کے اختیارِ سماعت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں: سپریم کورٹ نے قاتل شوہر کی اپیل خارج کر دی
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے وکیل مصطفیٰ رمدے کو بھی نوٹس جاری کر دیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔













