چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری
انہوں نے کہا کہ یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف
ان کے بقول حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔
مزید پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں گوہر علی خان نے کہا کہ معاملات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بعض نمائندگان کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے اور کچھ شخصیات نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔
دھرنے کے خاتمے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی عدالتوں سے بھی رجوع کرے گی اور سیاسی و آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت اور ان کی رہائی کے لیے قانونی و سیاسی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔












