پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کی صحت میں بہتری کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، تاہم ان کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بینائی میں کافی بہتری آئی ہے، جس کی وجہ سے دھرنا ختم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی اور اب بھی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مسائل ملاقاتیں نہ کروانے کی وجہ سے پیدا ہوئے، اگر پابندی نہ لگائی جاتی تو صورتحال یہاں تک نہ پہنچتی۔
یہ بھی پڑھیے: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی میں بہتری آگئی، بیرسٹر گوہر کا اقرار
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، لیکن عمران خان کے صحت کے معاملات سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کی بحالی کی تحریک جاری رہے گی کیونکہ یہ ایک دن کا معاملہ نہیں۔
عمران خان کی بینائی میں کافی بہتری آئی ہے، جس کی وجہ سے دھرنا ختم کیا گیا۔ ہماری خواہش تھی اور ابھی بھی یہ مطالبہ ہے کہ انہیں اسپتال منتقل کر دیا جائے۔ یہ سارے مسائل ملاقاتیں نہ کروانے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ پابندی نہ لگتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔
بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/74P85liMON— WE News (@WENewsPk) February 18, 2026
انہوں نے کہا کہ دھرنے سے عالمی سطح پر پیغام پہنچا اور آئندہ کا لائحہ عمل علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی قیادت میں دیا جاتا رہے گا۔
پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات اور مذاکرات کا جو راستہ بن رہا تھا، اسے بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سمجھدار لوگ موجود ہیں اور امید ہے کہ بہتری کا راستہ نکل آئے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب حکومت نے عمران خان کیخلاف ضمانت منسوخی کے 4 اہم مقدمات واپس لے لیے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی صحت بہتر ہے تو حکومت کو چاہیے کہ ان کی بہنوں اور ذاتی معالجین سے ملاقات کی اجازت دے، اگر رپورٹ درست ہے تو پھر کسی کو خوف کی ضرورت نہیں۔












