چیئرمین وفاق المدارس الرّضویہ الاِسلامیہ، مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ پہلی دفعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے علما اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ دہشتگردی عملی ہو، نظریاتی یا نفسیاتی، یہ قوم، مُلک اور اِسلام کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل کا بڑا فیصلہ: دیت بل کی مخالفت، ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ پہلا موقع ہے کہ سارے مسالک اور سارے مذاہب بشمول اقلیتوں کے سب نے مشترکہ طور پر دہشتگردی کے خلاف ایک مشترکہ دستاویز پیغامِ پاکستان کے نام سے مرتب کی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اُس پر دنیا بھر کے 5200 علمائے کرام کے دستخط موجود ہیں۔ اور یہ پہلا موقع ہے کہ علمائے کرام اِس بیانیے کو بیان بھی کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔ ترلائی بم دھماکہ جو پاکستان کے عوام کو فرقہ وارانہ بُنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا، اُس کا اثر اِس کے برعکس ہوا اور سب اِس بات پر متفق نظر آئے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب یا مسلک نہیں ہوتا۔
فتنہ خوارج کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اس بارے میں بات کرتے ہوئے مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ اس فتنے کی فکری بنیادیں نبی کریم ﷺ کے زمانے کے فوراً بعد ظاہر ہونا شروع ہو گئیں تھیں اور یہ واحد فتنہ ہے جس کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ خوارج نے پہلی دفعہ امیرالمومنین جناب حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف خروج کیا۔ اور اِن خوارج کی پہلی نشانی یہ ہے کہ یہ مسلمان حکومت یا مسلمان حکمران کے خلاف مسلح جدوجہد کرتے ہیں جو کہ حرام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان میں بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ، علما و مشائخ کی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی اپیل
انہوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات نہیں دیکھی جائے گی کہ اُن کا قرآن پڑھنا کیسا ہے، اُن کا لباس کیسا ہے، اُن کا تقوٰی کیسا ہے۔ جب حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اتمامِ حجت کے لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو مذاکرات کے لیے بھیجا تو وہ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن اِتنا خوبصورت پڑھ رہے تھے کہ لگتا تھا قرآن اِن پر نازل ہو رہا ہے، سجدے لمبے کرتے تھے، نمازیں خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 1400 سال کے بعد پاکستان وہ پہلی ریاست ہے جو ریاستِ طیّبہ کی بنیاد پر کلمے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ اِس کے قوانین اور آئین اِسلامی ہیں۔ اِس ریاست کے آئین کے شروع میں لکھ دیا گیا ہے کہ اِس ریاست میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔
’تو ایسی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے بارے میں سوچنا اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسے لوگ خوارج ہیں جن کے بارے میں آقا کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے علی کرم اللہ وجہہ، اِن سے آپ کا واسطہ پڑے گا اور قیامت تک ان کی مختلف شکلیں ظاہر ہوتی رہیں گی اور اِن کا آخری گروہ امام مہدی کی بجائے دجال کے ساتھ شامل ہوجائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: فتنہ خوارج سے متعلق اہم دستاویزات سامنے آ گئیں، پاکستان کا عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اِن خوارج نے کلمے کی بنیاد پر بننے والی ریاست کی بجائے ہندوؤں اور مشرکوں کے ساتھ الحاق کر لیا ہے جو کہ واضح نشانی ہے۔
خود کش کی برین واشنگ کیسے کی جاتی ہے؟
اس بارے میں بات کرتے ہوئے مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ اِن لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ایک غیر اِسلامی ریاست ہے، کافروں کی آلہ کار ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیئے کہ دفاعی ادارے موجود ہیں تو یہ مُلک موجود ہے۔ جہاں ریاستی دفاعی ادارے نہیں رہتے اُن مُلکوں کا حال عراق، شام، افغانستان اور لیبیا جیسا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خود کش بمباروں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ اِن کے خلاف جائیں گے تو آپ کو جنت ملے گی۔ جبکہ آقا کریم ﷺ جنہوں نے عام حالات میں کبھی بھی سخت الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن خوارج کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ اور فرمایا کہ اِن کے خلاف لڑنے والے اعلی درجے کے شہدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج میں شدید اندرونی اختلافات، تنظیم پر بالادستی حاصل کرنے کے لیے بے رحمی کے ساتھ فیصلے
وہ نوجوان جن کے پاس بنیادی علم ہی نہیں اُن کی ذہن سازی کر کے اِس طرح کی تخریب کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی بھی اسلامی ملک میں کفار کے بھی حقوق ہوتے ہیں اور اُن کو بھی آپ اِس طرح سے اذیت نہیں دے سکتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان ریاست میں اگر کسی مسیحی، کسی یہودی، کسی ذمّی کے خلاف بھی کوئی ظلم کیا جائے گا تو روزِ قیامت میں ﷺ اُس کی طرف سے وکیل ہوں گا۔
بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی اور علما کا کردار
مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان نے کہا کہ ہمارا ملک کثیر الجہتی، کثیر المذاہب اور کثیرالمسالک ہے۔ جب اِن علاقوں میں ہندو اور سکھ ریاستیں قائم تھیں تو مسلمان علمااور صوفیا آئے تو ہم نے اپنے عمل سے امن کا درس دیا۔












