صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے بھارتی پنجاب سے پاکستان آکر شادی کرنے والی خاتون سربجیت کور سے متعلق کا ہے کہ سربجیت کور پر بھارت میں مقدمات ہیں، انہیں پاکستان میں نہیں رکھنا چاہیے، انہیں واپس بھیجنا چاہیے۔ وزارت داخلہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اگر ہم انہیں واپس نہیں بھیجیں گے تو سکھ کاز کو نقصان پہنچے گا۔
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ سربجیت کور یاترا ویزے پر پاکستان آئیں۔ یہاں انہوں نے نکاح کے اوپر نکاح کیا۔ جس نے بھی نکاح پڑھوایا، اس نے غلط کام کیا۔ قانونی طور پر دیکھنا ہوگا کہ کیا اس کا نکاح درست تھا یا نہیں۔ وہ ایک شادی شدہ خاتون ہے، اس کا مذہب چاہے جو بھی ہو، اس نے نکاح کے اوپر نکاح کیا ہے۔
میں نے آئی پنجاب اور پنجاب حکومت سے کہا کہ سربجیت کور کو واپس بھارت جانا چاہیے، لیکن وزارت داخلہ نے انہیں یہاں پر روکا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہم انہیں واپس نہیں بھیجتے تو سکھ کاز میں دراڑ پڑے گی، بھارت میں موجود سکھوں میں ڈر اور خوف پیدا ہوگا۔ سربجیت کی انٹری غیر قانونی ہے۔ یہ واپس جائے، اگر دوبارہ پاکستان آنا چاہے تو دوسرا ویزا اپلائی کرے، مگر اب اسے یہاں نہیں رکھنا چاہیے۔
ہمارے پاس سربجیت کور کے خلاف شکایات بھارت کی طرف سے موصول ہوئی ہیں کہ وہ وہاں اشتہاری ہیں اور ان پر مقدمات ہیں۔ سربجیت کے شوہر نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی بیوی کے کردار کے حوالے سے بتایا۔ پاکستان سکھ پروبندھک کمیٹی بھی یہ مانتی ہے کہ سربجیت کور کو پاکستانی حکومت واپس بھارت روانہ کرے۔
یاترا پالیسی میں ممکنہ تبدیلی
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ دہلی منجمنٹ پربندھک کمیٹی سے کہا ہے کہ جو بھی یاتری پاکستان میں یاترا کے لیے آ رہے ہیں وہ صرف اسی مقصد کے لیے آئیں، یہاں آکر کوئی بزنس یا شادیاں نہ کریں۔ اکیلی خاتون کو یاترا کے لیے نہ بھیجا جائے، ساتھ اس کا بھائی یا کوئی فیملی ممبر لازمی ہو۔ عمر کی حد کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اقلیتی کارڈ کے ذریعے مالی معاونت
وی نیوز کو انٹرویو میں رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ اقلیتی کارڈ پنجاب حکومت کا اچھا اقدام ہے۔ اس وقت ایک لاکھ خاندانوں کو ہر 3 ماہ بعد ساڑھے 10 ہزار روپے کی رقم دی جا رہی ہے۔ کارڈ کے آغاز پر معلوم ہوا کہ پاکستان میں 14 مختلف اقلیتیں پنجاب میں رہ رہی ہیں۔ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں، خصوصاً پنجاب میں چیف منسٹر مریم نواز اقلیتوں کے لیے بہت کچھ کر رہی ہیں۔
مندروں اور چرچز کی بحالی
ایک سوال کے جواب میں رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ 3 مندروں پر کام ہو رہا ہے، ان میں کرشن مندر روالپنڈی، شیو مندر بہاولپور اور ایک چھوٹا مندر ناروال میں ہے۔ سیالکوٹ میں شوالہ کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے، جس کی تاریخ ایک ہزار سال پرانی ہے۔ ملتان اور حسن ابدال میں بھی مندروں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں چرچز کی تزئین و آرائش بھی کی جا رہی ہے، اور اقلیتوں کے لیے پورے پنجاب میں قبرستان اور جنازہ گاہیں بنائی جا رہی ہیں۔













