وزیر دفاع خواجہ آصف اور مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ نے آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے معاملات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور قومی ہاکی ٹیم کے معاملات پر کھل کر بول پڑے۔
خواجہ آصف نے ایکس پر بیان میں کہاکہ پاکستان ہاکی ٹیم نے کھیلنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ ہاکی فیڈریشن میں سیاسی تقرریوں کے باعث کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل ظلم و زیادتی ہوتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی جماعتوں کی سیاست نہیں کرتے، مگر ہاکی فیڈریشن میں یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ قومی کھیل کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا اور مالی معاملات کی شفاف چھان بین کی ضرورت ہے۔
انہوں نے انکشاف کیاکہ ان شااللہ معاملہ اسمبلی اور متعلقہ کمیٹیوں میں بھی زیر غور آئے گا۔
دوسری جانب آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ کے دوران پاکستان ہاکی ٹیم کو فراہم کی گئی غیر معیاری رہائش کے معاملے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر دی۔
رانا ثنااللہ نے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کردی
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے بتایا کہ ہاکی فیڈریشن کو اس مقصد کے لیے ایک کروڑ 10 لاکھ سے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے۔ انکوائری کے بعد ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی اور فیڈریشن کو اس معاملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے غیر معیاری سہولیات کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔
وطن واپس پہنچنے پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے بھی کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو ناقص رہائش فراہم کی گئی، اور انہیں اپنے برتن اور کپڑے خود دھونے پڑے۔
عماد بٹ نے موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے مطالبہ کیا تھا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے کیونکہ ورلڈکپ کے لیے وقت بہت کم باقی رہ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ناروا سلوک کی انتہا، آسٹریلیا سے واپسی پر پاکستان ہاکی ٹیم کو لینے کوئی بھی ایئرپورٹ نہ پہنچا
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، لیکن اس کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی جسے عوام کی جانب سے لمحہ فکریہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں