معروف فلم ہدایتکارہ کاؤتر بن ہانیہ نے اپنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے لیے سینما فار پیس گالا میں دیا جانے والا ’سب سے قیمتی فلم‘ کا ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا۔
تقریب میں اپنے خطاب میں بن ہانیہ نے کہا کہ ’میں شکر گزاری سے زیادہ ذمہ داری محسوس کرتی ہوں‘ اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی فلم کی پہچان جو چھ سالہ ہند رجب کی اسرائیلی ٹینک فائر سے ہونے والی المناک موت پر مبنی ہے جو غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدت کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘، ’یہ صرف کہانی نہیں تاریخ ہے‘
انہوں نے کہا کہ ہند کے ساتھ جو ہوا وہ نسل کشی کا حصہ ہے۔ اور آج رات برلن میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس نسل کشی کو سیاسی تحفظ دیا، شہری ہلاکتوں کو خود دفاع یا پیچیدہ حالات کے طور پر پیش کر کے اور احتجاج کرنے والوں کی توہین کی ہے۔
تقریب میں ہلیری کلنٹن اور کیون اسپیسی سمیت کئی بین الاقوامی شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر میجر جنرل نوم ٹیبون، سابق اسرائیلی دفاعی فورسز کے کمانڈر کو بھی اعزازی ایوارڈ دیا گیا اور ان کی فلم ’دی روڈ بیٹ وین اس‘ کو ’انصاف‘ کے زمرے میں سب سے قیمتی فلم کے اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈ پٹ، واکین فینکس اور رونی مارا کی غزہ پر مبنی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ میں شمولیت
بن ہانیہ نے کہا ’امن صرف تشدد پر خوشبو چھڑکنے جیسا نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کا مطلب ہے جوابدہی اور جوابدہی کے بغیر امن ممکن نہیں‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایوارڈ نہیں لے سکتیں کیونکہ اسرائیلی فوج نے ہند رجب اور اس کے خاندان سمیت دو پیرامیڈکس کو بھی مار دیا اور عالمی ادارے اس میں ملوث ہیں۔
ان کی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے ہند کو بچانے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ فلم وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں سلور لائن ایوارڈ جیت چکی ہے اور اسے گولڈن گلوبز اور اکیڈمی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوارڈ یافتہ فلسطینی صحافی بسان عودہ کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بحال
دوسری جانب برلن میں 80 سے زائد معروف فلم ورکرز جن میں مارک رفللو، ٹلڈا سوئٹن اور جیویر بارڈیم شامل ہیں نے فیسٹیول پر فلسطینی مخالف نسل پرستی اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ مشہور مصنفہ اروندھتی رائے نے بھی فیسٹیول سے دستبرداری اختیار کر دی تھی جب جیوری کے صدر نے کہا کہ ’سینما کو سیاست سے دور رہنا چاہیے‘۔













