بھارت کے پہلے بڑے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ میں بل گیٹس نے اپنے شیڈول کردہ کلیدی خطاب سے صرف چند گھنٹے قبل دستبرداری اختیار کر لی۔
بل گیٹس کے اس فیصلے سے تقریب کو مزید نقصان پہنچا، جو پہلے ہی تنظیمی ناکامیوں، روبوٹ اسکینڈل اور شرکا کی ٹریفک مسائل سے متعلق شکایات کی وجہ سے متاثر ہو چکی تھی۔
بل گیٹس کی غیر حاضری کے بعد اینویڈیا کے سی ای او جنسن ہوانگ کی ایک اور اعلیٰ سطح کی منسوخی نے افتتاحی دن کو مزید مشکل بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی کمپنی کی عالمی سطح پر سُبکی
یہ سمٹ عالمی جنوبی ممالک میں اے آئی کی پہلی بڑی کانفرنس کے طور پر منعقد کی جا رہی تھی، جس میں بھارت نے خود کو عالمی آ رٹیفیشل انٹیلیجنس گورننس میں ایک نمایاں آواز کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
گیٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ ارب پتی سربراہ اس سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے تاکہ اے آئی سمٹ کی اہم ترجیحات پر توجہ برقرار رہے۔
چند دن قبل ہی فاؤنڈیشن نے ان کے غیر حاضر ہونے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وقت پر سمٹ میں شریک ہوں گے۔
Bill Gates pulled out of India's AI Impact Summit hours before his scheduled keynote address on February 19, dealing another blow to a flagship event already marred by organizational lapses, a robot bungle and delegate complaints over traffic disruptions https://t.co/XwS4Rap9om
— Reuters (@Reuters) February 19, 2026
گیٹس کی دستبرداری ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی محکمہ انصاف نے گزشتہ ماہ ای میلز جاری کیں، جن میں مرحوم سرمایہ کار اور مجرم جیفری ایپسٹین اور گیٹس فاؤنڈیشن کے عملے کے درمیان روابط شامل تھے۔
بل گیٹس نے کہا کہ یہ تعلقات صرف فلاحی سرگرمیوں تک محدود تھے اور ایپسٹین سے ملاقات کرنا ان کی غلطی تھی۔
سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بچوں کی حفاظت پر زور دیا، وہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، گوگل کے سی ای او سندھر پچائی، اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین اور اینتھروپک کے سی ای او داریو آمودی کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔
مزید پڑھیں: چینی روبوٹ کو اپنی ایجاد ظاہر کرنے پر بھارتی یونیورسٹی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ سے باہر کر دیا گیا
مودی نے کہاکہ ہمیں بچوں کی حفاظت کے معاملے میں مزید ہوشیار رہنا ہوگا۔ جیسے اسکول کے نصاب کو منظم کیا جاتا ہے، اسی طرح اے آئی کے میدان میں بھی بچوں اور خاندانوں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
تاہم، بھارت کے پہلے بڑے اے آئی سمٹ کو انتظامی ناکامیوں نے متاثر کیا، جس سے شرکا حیران اور غصے میں تھے، سمٹ کے نمائش ہال جمعرات کو اچانک عوام کے لیے بند کر دیے گئے، جس سے شرکت کرنے والی کمپنیوں میں مزید ناراضی پیدا ہوئی۔ 3 روز کی بھیڑ کے بعد تقریب کا مقام زیادہ تر خالی رہا۔
بدھ کو، بھارتی یونیورسٹی گلاگوٹیاز کو اپنا اسٹال خالی کرنے کا کہا گیا، جب ایک عملے کے رکن نے چین میں تیار کردہ تجارتی روبوٹک ڈاگ کو اپنی تخلیق کے طور پر پیش کیا۔
مزید پڑھیں: ویب سمٹ میں چینی روبوٹ نے دھوم مچا دی
جس پر عوامی احتجاج ہوا، پولیس نے وی آئی پی نقل و حرکت کو ترجیح دینے کے لیے سڑکیں بند کر دیں، جس سے دہلی کی 20 ملین کی آبادی میں افراتفری پیدا ہوئی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ شرکا کئی میل پیدل چلتے رہے کیونکہ ٹریفک بند تھی اور کوئی ٹیکسی یا شٹل سروس دستیاب نہیں تھی۔
اپوزیشن رہنما ماہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس انتظامی ناکامی کو بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔














