جان لیوا ٹریفک حادثے میں ملوث جج کے بیٹے کی معافی، تحقیقات کے لیے درخواست دائر

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ایک درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2 دسمبر 2025 کو پیش آنے والے جان لیوا ٹریفک حادثے میں ملوث جج کے بیٹے کو فراہم کی گئی معافی بیرونی دباؤ اور سرکاری اداروں کی بے عملی کا نتیجہ تھی۔

معروف وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم خواجہ کی جانب سے دائر اس درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وزارتِ داخلہ، آئی جی اسلام آباد، وزارتِ خزانہ، ایف بی آر، ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ایس ایچ او تھانہ سیکرٹیریٹ اور علاقہ مجسٹریٹ سے جواب طلب کیا جائے کہ حادثے میں قانونی عمل کو کس طرح روکا گیا اور ملزم کو کس طرح سہولت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد حادثہ، جج کے کم عمر بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے 2 جوان لڑکیاں جاں بحق

درخواست گزار نے بتایا کہ حادثے میں کم عمر ڈرائیور نے نان کسٹم پیڈ گاڑی تیز رفتاری اور جعلی نمبر پلیٹ کے ساتھ چلاتے ہوئے 2 لڑکیوں کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا، تاہم متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ملزم کو مشکوک انداز میں ضمانت اور نامکمل راضی نامہ حاصل کیا گیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ٹکر مارنے والی گاڑی کی رجسٹریشن کے حوالے سے انہون نے بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک کلکٹر کسٹمز، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو تحریری درخواستیں اور شکایات جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد حادثہ: ہائیکورٹ جج کی ماورائے عدالت تصفیے کی کوششیں، صحافی اسد ملک کا انکشاف

تاہم مذکورہ درخواست میں قابلِ دست اندازیِ پولیس جرائم اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ کلکٹر کسٹمز، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو ہدایات جاری کی جائیں کہ قانونی پر عمل درآمد کرتے ہوئے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے اپنی عمل درآمد رپورٹ پیش کریں۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا بغیر لائسنس ڈرائیوروں کیخلاف بلا تفریق سخت کریک ڈاؤن کا حکم

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نامزد فریقین کی بے عملی اور امتیازی طرز عمل آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔

درخواست میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ قانون کے مطابق سب برابر ہیں، اور کسی بھی شخص کو عدالتی اور قانونی عمل سے بالاتر حیثیت حاصل نہیں۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مقدمے کی شفاف تحقیقات کے ذریعے انصاف یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات

’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ