وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حکومت کو زیادہ وقت دے رہے ہیں یا پارٹی کو؟

جمعہ 20 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج اور دھرنوں کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ ہفتے اسلام آباد پہنچے تھے اور تب سے وہیں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایک طرف عمران خان کی بیماری اور دوسری طرف ٹک ٹاک کا شوق‘، سہیل آفریدی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی قومی اسمبلی اور پختونخوا ہاؤس میں دھرنوں کے دوران وہاں موجود رہے اور منتخب اراکین کے ساتھ ہی رہے۔ اس دوران حکومتی معمولات پر بھی ان کی توجہ کم رہی اور پشاور میں ان کے معمول کے ہفتہ وار شیڈول کے مطابق میٹنگز اور ملاقاتیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ کئی اجلاس بھی ملتوی کیے گئے۔

پورا ہفتہ سیاسی اور پارٹی سرگرمیوں میں مصروف

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جن کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ بھی نہیں ہے لیکن وہ پورا ہفتہ سیاست اور پارٹی معمولات میں مصروف رہے۔ پختونخوا ہاؤس اور قومی اسمبلی میں دھرنوں کے دوران سرکاری امور کو وقت نہیں دیا گیا اور سیاسی سرگرمیوں پر ان کی توجہ زیادہ رہی۔

سی ایم ہاؤس میں تعینات ایک افسر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ گزشتہ ہفتے سے اسلام آباد میں ہیں اور اس بار سیاسی اور پارٹی مصروفیات زیادہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی اکثر اسلام آباد میں قیام کرتے ہیں لیکن اس دوران اجلاس اور سرکاری وفود سے ملاقاتیں بھی کرتے رہتے ہیں تاہم اس بار وہ دھرنوں میں مصروف تھے۔

مزید پڑھیے: امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، خیبر پختونخوا مزید تجربہ گاہ نہیں بنے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

ان کا کہنا تھا کہ اس بار وزیراعلیٰ دھرنوں میں بیٹھے رہے جس کے باعث کئی اجلاس اور اہم ملاقاتیں نہ ہو سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عام دنوں میں ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کرتے ہیں لیکن دھرنوں کے باعث اس بار اجلاس کم ہوئے۔

افسر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے رمضان ریلیف کے حوالے سے ایک اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے کیا جس میں انہوں نے ریلیف پیکج کی تقسیم اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ کی سیاسی مصروفیات، کیا سرکاری امور متاثر نہیں ہو رہے؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اسلام آباد میں زیادہ قیام پر پارٹی کے اندر بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کے کچھ قائدین کا ماننا ہے کہ وزیراعلیٰ کے صوبے سے باہر رہنے کے باعث صوبائی امور درست سمت میں نہیں جا رہے اور کام بھی متاثر ہو رہا ہے۔

ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ اس بار کئی میٹنگز اور اجلاس شیڈول تھے لیکن اچانک دھرنوں میں جانے کے باعث یہ شیڈول ملتوی ہو گئے اور وزیراعلیٰ پورا ہفتہ اسلام آباد میں دھرنوں میں مصروف رہے۔ ان کے مطابق کچھ اہم میٹنگز سرکاری حکام نے خود کیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی ہفتے میں 2 سے 3 دن اکثر اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں اور ان کی زیادہ مصروفیات سیاسی یا پارٹی نوعیت کی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو وہ اسلام آباد آتے ہیں تو سیاسی مصروفیات ہوتی ہیں، عمران خان کے کیسز اور ان کی بہنوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جبکہ جمعرات کو ملاقات کی امید لے کر اڈیالہ جیل کے سامنے پہنچ جاتے ہیں۔

افسر کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں وزیراعلیٰ صبح کے اوقات میں سرکاری امور نمٹاتے ہیں جبکہ اس کے بعد پارٹی امور میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

سہیل آفریدی کے ایک قریبی پارٹی رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی اولین ترجیح عمران خان سے ملاقات ہے جس کے لیے وہ دن رات مصروف رہتے ہیں۔

ان کے مطابق سہیل آفریدی کو اندازہ ہے کہ جب تک وہ عمران خان کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے ان کی کرسی مضبوط رہے گی جبکہ عمران خان کی رہائی پر توجہ کم ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ بھی علی امین گنڈاپور جیسا سلوک ہو سکتا ہے۔

حکومت کے بجائے پارٹی کو ترجیح، اپوزیشن لیڈر

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اسلام آباد میں زیادہ قیام اور پارٹی امور پر توجہ دینے پر خیبر پختونخوا کے اپوزیشن اراکین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو سیاست اور پارٹی امور کے بجائے حکومتی معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حالیہ سرگرمیاں و بیانات، کیا وہ ’گڈ بوائے‘ بن گئے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر عباد اللہ نے بھی وزیراعلیٰ پر کڑی تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے ذمے دار ہیں اور سیاست پارٹی کو کرنی چاہیے لیکن وزیراعلیٰ حکومت چلانے کے بجائے پارٹی امور پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

عباداللہ نے کہا کہ سیاست کریں ہم کسی کو سیاست سے نہیں روکتے، لیکن وزیراعلیٰ کو صوبے پر توجہ دینی چاہیے۔

سابق گورنر اور جے یو آئی کے رہنما حاجی غلام علی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو حکومت پر توجہ دینی چاہیے اور عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔

حاجی غلام علی نے کہا کہ ووٹ عمران خان کے لیے دھرنے دینے کے لیے نہیں ملے، بلکہ غریب عوام کے لیے کام کرنے کے لیے ملے ہیں۔

مزید پڑھیں: سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے

دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے وزیراعلیٰ سمیت سب ایک پیج پر ہیں اور ان کی رہائی کے لیے جدوجہد سب کی اولین ترجیح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اگلے 12 سے 18 ماہ میں لاکھوں ملازمین اپنی نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں

وزیراعظم کا دورۂ امریکا: عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال

سپریم کورٹ: سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل خارج، تاخیر معاف کرنے کی استدعا مسترد

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات میں کن امور پر گفتگو ہوئی؟

’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ