سپریم کورٹ نے سروس میٹر کیس میں وفاقی حکومت کی اپیل زائد المیعاد قرار دیتے ہوئے خارج کردی اور تاخیر معاف کرنے کی حکومتی استدعا بھی مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو بھی وہی پروٹوکول ملے گا جو ایک عام شہری کو ملتا ہے اور ریاست کوئی انوکھا سائل نہیں جسے خصوصی رعایت دی جائے۔
مزید پڑھیں:ایف آئی آر میں ’نو مسلم شیخ‘ لکھنے پر سپریم کورٹ کا سخت اظہارِ برہمی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریاست شہریوں سے تو قانون پر سختی سے عملدرآمد کرواتی ہے لیکن خود بہانے بناتی ہے۔ دفتری قواعد یا انتظامی مشکلات وقت کی پابندی سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔
عدالت کے مطابق افسران کے تبادلوں، کمیٹیوں کے اجلاس نہ ہونے یا بیوروکریسی کی سستی کو تاخیر کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، اور اس کا بوجھ دوسرے فریق پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: رمضان المبارک میں سپریم کورٹ کے اوقات کار کیا ہوں گے؟ نوٹیفکیشن جاری
جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ وفاقی حکومت نے مقررہ 60 دن کی مدت ختم ہونے کے بعد 20 دن کی تاخیر سے اپیل دائر کی۔ عدالت نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد افسران کی سہولت کے تابع نہیں بلکہ نظم و ضبط اور مقررہ مدت کی پابندی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ریاست اپنی نااہلی کا ملبہ عدالت پر نہیں ڈال سکتی۔













