انگلینڈ کے معروف ٹی20 ٹورنامنٹ دی ہنڈرڈ میں آئندہ سیزن کے دوران متعدد پاکستانی کرکٹرز کی شرکت غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل سے منسلک فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کرنے سے گریزاں ہیں۔
دی ہنڈرڈ، جو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ یعنی ای سی بی کا فلیگ شپ ٹورنامنٹ ہے، 21 جولائی سے 16 اگست تک کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل فرنچائز نے میری بے عزتی کی، اسٹار کرکٹر گرس گیل رو پڑے
نجی سرمایہ کاری کی آمد کے بعد اس سیزن میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق ای سی بی کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ ایک ایجنٹ کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی صرف ان ٹیموں تک محدود رہے گی، جن کے آئی پی ایل سے روابط نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ 2009 سے اب تک آئی پی ایل فرنچائزز نے پاک بھارت سفارتی کشیدگی کے باعث کسی پاکستانی کرکٹر کو شامل نہیں کیا۔
غیر تحریری اصول
دی ہنڈرڈ کی 8 میں سے 4 فرنچائزز، مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز، کم از کم جزوی طور پر ان اداروں کے کنٹرول میں ہیں جو آئی پی ایل ٹیموں میں بھی حصہ رکھتے ہیں۔
ایک ایجنٹ نے اس صورت حال کو بھارتی سرمایہ کاری والی ٹی20 لیگز میں رائج ’غیر تحریری اصول‘ قرار دیا۔
گزشتہ برس ای سی بی کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے کہا تھا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ تمام ممالک کے کھلاڑی تمام ٹیموں کے لیےمنتخب ہوں گے اور اس حوالے سے امتیازی سلوک کے خلاف پالیسیوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کا لندن روڈ شو: عالمی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی نئی سفارتی پیش رفت
ای سی بی کے ترجمان نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ دی ہنڈرڈ دنیا بھر کے مرد و خواتین کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور آٹھوں ٹیموں میں اس عالمی تنوع کی عکاسی ہونی چاہیے۔
ای سی بی کے مطابق 18 ممالک سے تقریباً ایک ہزار کرکٹرز نیلامی کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔
جبکہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے 50 سے زائد کھلاڑی لانگ لسٹ میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:جنوبی افریقہ کے اسٹار کھلاڑی نے آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا
ماضی میں کئی پاکستانی مرد کرکٹرز دی ہنڈرڈ کا حصہ رہ چکے ہیں، عماد وسیم گزشتہ سیزن میں ناردرن سپرچارجرز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
جبکہ محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اور حارث رؤف بھی مختلف اوقات میں ٹورنامنٹ میں شرکت کر چکے ہیں۔
تاہم اب تک کوئی پاکستانی خاتون کرکٹر دی ہنڈرڈ میں نہیں کھیل سکی۔
مزید پڑھیں:پی ایس ایل فرنچائزز کے نئے 10 سالہ معاہدے: 2 نئی ٹیموں کا اضافہ، لیگ 8 ٹیمیں کھیلیں گی
یہ رجحان صرف انگلینڈ تک محدود نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 لیگ، جو 2023 میں شروع ہوئی، میں بھی اب تک کسی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی تمام 6 فرنچائزز آئی پی ایل مالکان سے منسلک ہیں۔
ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو ٹام موفاٹ نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کھلاڑی کو منصفانہ اور مساوی موقع ملنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگرچہ بھرتی کا اختیار آجر کے پاس ہوتا ہے، لیکن فیصلے ہمیشہ انصاف، مساوات اور احترام کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔














