روزہ جسم، دماغ اور روح کو کیسے ’ری سیٹ‘ کرتا ہے؟

جمعہ 20 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رمضان ہمیں ایک ایسی دنیا میں رکنا سکھاتا ہے جہاں ہر چیز نان اسٹاپ چل رہی ہے، اسکرولنگ، نوٹیفکیشنز، اسٹریس اور کھانا۔ ہم تھکن، کم فوکس اور بے چینی کی شکایت کرتے ہیں مگر رکتے نہیں۔

روزہ دراصل اسی رکنے کا نام ہے، کھانے سے رکنا، دوڑ سے رکنا اور خود کو محسوس کرنا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ تم پر فرض کیا گیا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ یہاں بھوک برداشت کرنا مقصد نہیں، بلکہ کنٹرول، آگاہی اور اپنی حد کو پہچاننا ہے، روزہ پہلے جسم کو کنٹرول سکھاتا ہے، پھر ذہن کو، اور آخرکار روح کو۔

آج ہم اکثر بوریت، اسٹریس یا عادت کی وجہ سے کھاتے ہیں اور پھر کم توانائی، ہاضمے کے مسائل اور وزن کی شکایت کرتے ہیں۔ روزہ ہمیں اصل اور جذباتی بھوک میں فرق سمجھاتا ہے اور یہ احساس دیتا ہے کہ ہم ہر خواہش کے غلام نہیں۔

جیسے فون کو ری اسٹارٹ کرنے سے اس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے، ویسے ہی روزہ جسم اور ذہن کا ری سیٹ ہے۔

یہی عمل آہستہ آہستہ غصے، لت اور بے قابو خواہشات پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ تقویٰ صرف ڈر کا نام نہیں، بلکہ اس سکون کا نام ہے جو درست فیصلہ لینے کے بعد دل کو ملتا ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو میں

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟