رمضان ہمیں ایک ایسی دنیا میں رکنا سکھاتا ہے جہاں ہر چیز نان اسٹاپ چل رہی ہے، اسکرولنگ، نوٹیفکیشنز، اسٹریس اور کھانا۔ ہم تھکن، کم فوکس اور بے چینی کی شکایت کرتے ہیں مگر رکتے نہیں۔
روزہ دراصل اسی رکنے کا نام ہے، کھانے سے رکنا، دوڑ سے رکنا اور خود کو محسوس کرنا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ تم پر فرض کیا گیا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ یہاں بھوک برداشت کرنا مقصد نہیں، بلکہ کنٹرول، آگاہی اور اپنی حد کو پہچاننا ہے، روزہ پہلے جسم کو کنٹرول سکھاتا ہے، پھر ذہن کو، اور آخرکار روح کو۔
آج ہم اکثر بوریت، اسٹریس یا عادت کی وجہ سے کھاتے ہیں اور پھر کم توانائی، ہاضمے کے مسائل اور وزن کی شکایت کرتے ہیں۔ روزہ ہمیں اصل اور جذباتی بھوک میں فرق سمجھاتا ہے اور یہ احساس دیتا ہے کہ ہم ہر خواہش کے غلام نہیں۔
جیسے فون کو ری اسٹارٹ کرنے سے اس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے، ویسے ہی روزہ جسم اور ذہن کا ری سیٹ ہے۔
یہی عمل آہستہ آہستہ غصے، لت اور بے قابو خواہشات پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ تقویٰ صرف ڈر کا نام نہیں، بلکہ اس سکون کا نام ہے جو درست فیصلہ لینے کے بعد دل کو ملتا ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو میں












