پاکستان دہشتگردی کے خلاف تو یکسو ہے لیکن پاکستان کے خلاف ایک اور جنگ بھی لڑی جا رہی ہے جدھر ابھی تک کسی نے توجہ نہیں کی۔ یہ انفارمیشن وار ہے اوریہ دہشتگردی سے زیادہ خطرناک ہے۔
پریشان کن بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک اسے جنگ سمجھا ہی نہیں رہا ، ہم ابھی تک اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ آزادی رائے ہے۔ یہ آزادی رائے نہیں ہےجناب ، یہ سائبر وار ہےجو پوری شدت اور سارے وسائل کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ پاکستان میں کہیں دہشتگردی ہو جائے تو فوری طور پر ایک بیانیہ پھیلنے لگتا ہے؟ دہشتگردوں کی مذمت نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو دھیمے سرں میں ہوتی ہے۔ زیادہ اونچا شور یہ مچایا جاتا ہے کہ ہائے ہائے ریاست ناکام ہو گئی، دہائی دی جانے لگتی ہے کہ سیکیورٹی فیلیئر ہو گیا، سر پیٹنا شروع ہو جاتا ہے کہ دہشتگرد پکڑے کیوں نہیں جاتے، سلگتے لہجے سراپا سوال بن جاتے ہیں کہ دہشتگردوں کو مارا کیوں نہیں جاتا ۔ کچھ مصنوعی سوگوار لہجے پوری ہمدردانہ شیطانیت کے ساتھ زہر اگلتے ہیں کہ ریاستی ادارے خود ہی ان دہشت گردوں کی سہولت کاری نہ کریں تو بھلا ایسے حملے ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ
یوں لگتا ہے کہ دہشتگرد اپنا کام کر کے جاتے ہیں تو باقی کا کام ، انفارمیشن وار کے دہشتگردوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔ واردات ایک ہی ہے، صرف طریقہ واردات مختلف ہے۔ جب یکسو ہونے کا وقت ہوتا ہے یہ اگر مگر چونکہ چنانچہ کے ساتھ معاشرے کو کنفیوز کرنے کے مشن پر متحرک ہو جاتے ہیں۔
لیکن جب پاکستان جواب میں کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہی انفارمیشن وار حقوق انسانی اور بین الاقوامی قانون کا مقدمہ لے کر کھڑا ہو جاتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو انفارمیشن وار کے ان دہشتگردوں کو نہ حقوق انسانی یاد آتے ہیں نہ کچھ اور۔ تب یہ سارا زور اس بات پر لگا رہے ہوتے ہیں کہ ریاست تو ناکام ہو گئی ۔ گویا مسئلہ جو بھی ہو ، معاملہ جیسا بھی ہو، انہوں نے صرف پاکستان کو سینگوں پر لینا ہوتا ہے۔ؤ
دہشتگرد جب گھروں سے نکل کر دہشتگردی کے مراکز میں تربیت لینے جاتے ہیں تو یہاں ایک طبقہ طوفان کھڑا کر دیتا ہے کہ ہمارا چن ماہی مسنگ ہو گیا۔ لیکن یہی چن ماہی جب دہشت گردی کی واردات میں مارا جاتا ہے اور دہشت گرد باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے نیٹ ورک کا حصہ تھا تو پھر مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ آج تک کسی کو حیا نہیں آئی کہ معذرت ہی کر لے کہ ہم جس چن ماہی کو مسنگ پرسن سمجھتے تھے وہ تو دہشتگرد نکلا۔
دہشتگردی کے ہاتھوں پاکستان گھائل ہوا پڑا ہے لیکن انفارمیشن وار کے دہشتگرد اس پر بات نہیں کریں گے کہ ایسا کون کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے، وہ الٹا پاکستان کو لعن طعن کریں گے کہ یہ ڈالری جنگ لڑ رہا ہے۔ ان کے خیال میں فریق ثانی یعنی افغانستان تو خالص غلبہ اسلام کی جدو جہد کر رہا ہے البتہ پاکستان اپنی سلامتی کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ امریکا سے ڈالر لینے کے لیے لڑ رہا ہے۔
پاکستان کی افواج بھارت سے جنگ میں مصروف تھیں تو یہ انفارمیشن وار کے دہشتگرد اپنی ہی افواج پر یلغار کررہے تھے، شہدا کا تمسخر اڑایا جاتا ہے، خبث باطن جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو یہ ملک کی فوج کو چار اضلاع کی فوج قرار دیتے ہیں ۔ پڑوس کے جنگجوؤں کو یہ پیار سے شاہزادے کہیں گے لیکن اپنی افواج کے تذکرے سے ان پر ایسی کیففیت طاری ہو جاتی ہے کہ یہ پطرس بخاری کے شہرہ آفاق مضمون کی تصویر بن جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: سڑکیں بند کرنا کون سا احتجاج ہے؟
پاکستان نے عشروں افغان بھائیوں کی میزبانی کی اور ایسے کی کہ دنیا کی حالیہ تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ لیکن یہ اس کی بھی تضحیک کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے پاکستان نے یہ سب کچھ صرف اقوام متحدہ سے ڈالر کھانے کے لیے کیا تھا۔ ان کے سامنے اعدادو شمار رکھ کر حساب سودو زیاں کی دعوت دی جائے تو یہ کندھے اچکا کر ’مطالعہ پاکستان‘ کی پھبتی کسیں گے۔ ان کے نزدیک پاکستان رہنے کے قابل جگہ نہیں لیکن اس کے باوجود دہائی دیں گے کہ افغانوں کو پاکستان سے نہ نکالا جائے۔
اپنے ملک کی بات آئے تو یہ ملامتی صوفی بن جاتے ہیں اور ملک کی خوبیوں پر بھی یہ ملامت ہی کرتے پائے جاتے ہیں لیکن افغانستان کی بات آئے تو یہ اس کے ایسے قصیدے پڑھتے ہیں جیسے دنیا کی پہلی ا ور آخری ایمپائر افغانستان ہی تھا اور پاکستان کو صبح شام اس سے ڈر کر رہنا چاہیے۔
یہ پاکستان کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ وہ افغانستان کو اپنا صوبہ بنانا چاہتا ہے لیکن یہ افغان حکومت پر کبھی تبقید نہیں کرتے کہ اٹک پل اور اس سے آگے تک کے علاقے پر ملکیت کا دعویٰ کیوں کرتی ہے۔
ان کے خیال میں افغانستان جو کرتا ہے ٹھیک کرتا ہےا ور پاکستان جو کرتا ہے غلط کرتا ہے۔ چنانچہ پاکستان روز لاشے اٹھائے تب بھی ان کے خیال میں پاکستان کو جوابی کارروائی کا حق نہیں ہے۔ اسے صرف گالیاں کھانی چاہیں اور اپنی بربادی پر تالیاں بجانی چاہییں۔
جاہل ایسے ہیں کہ داخلی سیاست کو امور خارجہ کا عنوان بنا دیتے ہیں اور فرد جرم عائد کرتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلے ’پنجابی‘ کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان کے ممدوح شاہزادوں کے ہاں فیصلہ کون کر رہا ہے؟ ازبک، تاجک، ہزارہ، پشتون سب مل کر کر رہے ہیں یا ایک اقلیت بندوق کے زور پرر فیصلہ ساز ہے؟
طعنے دیتے ہیں کہ پاکستان میں مثالی جمہوریت نہیں ہے اس لیے خارجہ پالیسی بازیچہ اطفال بن گئی ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ طالبان دو تہائی سے الیکشن جیت کر حکومت کر رہے ہیں یا تین چوتھائی سے۔
پاکستان پر طعنہ زن رہتے ہیں کہ یہ اسلامی ریاست نہیں ہے لیکن اس پر بات نہیں کرتے کہ افغانستان میں کب سے اور کون سی شریعت نافذ ہے کہ اسے عین اسلامی ریاست قرار دیا جائے۔
یہ پاکستان کو مطعون کرتے ہیں کہ امریکہ سے ڈالر لیتا ہے لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ امریکہ ہر سال افغان حکومت کو کتنے ڈالر دے رہا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ سوال بھی نہیں اٹھایا کہ امریکہ نے افغانستان سے جاتے جاتے جو 7 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑ دیا تھا کیا وہ اتفاق تھا؟ یاد رہے کہ یہ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ مالیت کا اسلحہ ہے اور اب پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟
پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جہاں پاکستان سے زیادہ دوسرے ممالک کے وفادار دندناتے پھرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے شہری ہردوسرے ملک کا مقدمہ لڑ رہے ہوتے ہیں ، لیکن اگر کوئی پاکستان کے حق میں بات کر دے تو یہ باقاعدہ اسے کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ ان کے خیال میں حریت فکر یہ کہ اپنی ہی ریاست کو کاٹتے رہو اور اگر کوئی اپنی ریاست کے حق میں بات کرتا ہے تو وہ ضمیر فروش ہے۔
یہ سہولت صرف پاکستان میں ہے کہ آپ اپنی ریاست کے بارے مین ہذیان بکتے رہو اور کوئی آپ سے پلٹ کر سوال نہیں کرتا۔ حقیقت مگر وہی ہے کہ جب تک ریاست پر مسلط اس انفارمیشن وار کے جنگجوؤں کو کھلی چھٹی ہے تب تک آپ دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












