سن 2026 کا پہلا مکمل چاند گرہن، جسے عام طور پر ’خونی چاند‘ کہا جاتا ہے، 3 مارچ کو ہوگا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں جزوی طور پر دیکھا جا سکے گا۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی اور دلکش فلکیاتی منظر ہوگا، جبکہ اگلا مکمل چاند گرہن 31 دسمبر 2028 سے قبل متوقع نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال میں آسمان پر رنگوں کی داستان، اسنو مون کے بعد بلڈ مون کا جادو
محکمہ موسمیات کے مطابق گرہن کا آغاز دوپہر 1 بج کر 44 منٹ پر ہوگا، جبکہ چاند زمین کے نیم سایہ میں 2 بج کر 50 منٹ پر داخل ہوگا۔ مکمل گرہن کا مرحلہ 4 بج کر 5 منٹ پر شروع ہوگا اور 4 بج کر 34 منٹ پر عروج پر پہنچے گا، جب آسمان پر ایک منفرد منظر دکھائی دے گا۔

مکمل مرحلے کے دوران چاند سرخی مائل یا نارنجی رنگ اختیار کر لے گا۔ یہ رنگت زمین کے ماحول میں سورج کی روشنی کے بکھرنے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ سورج، زمین اور چاند کی سیدھ اس منظر کو مزید دلکش بنا دیتی ہے، جو صدیوں سے لوگوں کو متوجہ کرتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آنے والے بلڈ مون چاند گرہن کے بارے میں 7 عجیب و غریب حقائق کیا ہیں؟
مکمل گرہن کا مرحلہ 5 بج کر 3 منٹ پر ختم ہونا شروع ہوگا، جبکہ پورا عمل شام 7 بج کر 23 منٹ پر مکمل ہو جائے گا۔ ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بہتر نظارے کے لیے صاف آسمان والی جگہ کا انتخاب کریں، اور اگر ممکن ہو تو دوربین یا مناسب فلٹر کا استعمال کریں۔
یہ چاند گرہن پاکستان کے علاوہ ایشیا، آسٹریلیا، شمالی و جنوبی امریکا اور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی دیکھا جا سکے گا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ موقع شوقیہ مبصرین اور سائنس دانوں کے لیے چاند اور اس کے مدار کے مطالعے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔














