برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی ایک نجی فلاحی تنظیم کے خلاف ماحولیاتی فیشن ڈیزائنر نے 6 ملین پاؤنڈ ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔
رپورٹ کے مطابق لگژری فیشن برانڈ ماریچی لندن کی بانی امانڈا ناوائیان نے کنگ چارلس تھرڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک مشترکہ فلاحی منصوبے سے اچانک دستبرداری کے باعث انہیں شدید مالی اور ذہنی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی میڈیا گروپ نے شہزادہ ہیری سے معافی کیوں مانگی؟
دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ منصوبہ بادشاہ کے کورونیشن فوڈ پروجیکٹ کی حمایت میں ایک خصوصی فنڈ ریزنگ ڈنر اور تشہیری ٹی شرٹ مہم پر مشتمل تھا، جس کی منسوخی کے بعد انہیں لاکھوں پاؤنڈ کے ممکنہ کاروباری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
امانڈا ناوائیان کے مطابق اس موقع کے ختم ہونے سے وہ طویل عرصے تک پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں۔ تقریب میں معروف شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی شرکت متوقع تھی جبکہ شہزادی بیٹریس کی اسٹائلسٹ اولیویا بکنگھم اس ایونٹ کی کیوریشن کر رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کو حساس معلومات دینے کا شبہ، شاہ چارلس کے چھوٹے بھائی گرفتار
مقدمے میں برطانیہ کی فوڈ ری ڈسٹری بیوشن تنظیم فیئر شیئر اور کورونیشن فوڈ پروجیکٹ کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈوری ڈانا ہائری کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں معاہدے کی خلاف ورزی اور منصوبے سے متعلق غلط نمائندگی کے الزامات عائد کرتے ہوئے 6 ملین پاؤنڈ ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مدعا علیہان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ڈیزائنر کے الزامات قانونی بنیاد پر برقرار نہیں رہ سکیں گے اور دعویٰ ناکام ہوگا۔













