محکمہ صحت کے حکام کے مطابق صوبہ سندھ کے ضلع سجاول کی بیلو یونین کونسل سے تعلق رکھنے والا 4 سالہ بچہ مفلوج کرنے والے اس وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔
پاکستان میں سال 2026 کے اس پہلے پولیو وائرس کیس کی رپورٹنگ کے بعد ملک کے ہائی رسک علاقوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے، حالانکہ ملک بھر میں ویکسینیشن کی وسیع مہمات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب 15 سال تک کے بچوں کو پولیو ویکسین دی جائےگی، حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے حکام نے جمعرات کو بتایا کہ یہ کیس ملک کے پولیو نگرانی نظام کے ذریعے سامنے آیا اور بعد ازاں اسلام آباد میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو خاتمہ نے اس کی تصدیق کر دی۔
صحت حکام کے مطابق پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے اس کیس کا تجزیہ شروع کر دیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ علاقے اور ملحقہ اضلاع میں وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیسے کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان انسداد پولیو پروگرام اور یوفون 4G کااسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان
ماہرین کے مطابق اس کیس کی نشاندہی سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع اب بھی وائرس کے حوالے سے حساس ہیں جہاں بار بار ویکسینیشن مہمات کے باوجود پولیو وائرس کی گردش جاری رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں میں پاکستان نے اس بیماری کے خلاف نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا اور جب بچوں میں قوتِ مدافعت کا خلا رہ جاتا ہے تو وقفے وقفے سے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔
سال 2026 میں اب تک پاکستان ایک قومی انسدادِ پولیو مہم مکمل کر چکا ہے جس کے دوران 5 سال سے کم عمر کے ساڑھے 4 کروڑ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔ وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ قومی مہم اپریل میں منعقد کی جائے گی۔













