مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے خلیجی خطے اور اس کے اطراف میں میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی حکمتِ عملی کا مقصد جنگ کے خطرات کو پورے خطے تک پھیلا کر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آذربائیجان پر ڈرون حملے میں ہمارا ہاتھ نہیں، ایران
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے ہزاروں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ ان حملوں کا ہدف اسرائیل، خطے میں امریکی فوجی اڈے اور سفارتخانے جبکہ خلیج فارس کے توانائی مراکز بھی رہے۔ بعض حملے ترکی اور آذربائیجان کی سرحدی سمت میں بھی کیے گئے۔
Direct hits by Iranian missiles in israel pic.twitter.com/YIhYVPiBxU
— Muzzamal (@Warrior1Pak) October 1, 2024
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی شہر پتاح تکوا میں ایرانی میزائل حملے سے عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں ایک آئل تنصیب پر تباہ کیے گئے ایرانی ڈرون کے ملبے سے آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری میں بھی ڈرون حملے کے بعد آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے کرد گروہوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا
ماہرین کے مطابق ایران کی بنیادی حکمت عملی یہ ہے کہ جنگ کے اخراجات اور خطرات کو بڑھا کر امریکا کے اتحادی ممالک کو اس تنازع کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر مجبور کیا جائے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکمت عملی الٹی پڑ گئی تو اس سے پورے خطے میں ایک وسیع اور طویل جنگ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔











