امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عارضی قرار دے دیا ہے۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی خطرے کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آجائیں گی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکا اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے ادا کی جانے والی ایک چھوٹی قیمت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 29.21 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 26.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ 117.6 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی تقریباً 19 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔













