دنیا بھر میں 49 لاکھ بچوں کی قابلِ علاج بیماریوں سے موت، اقوام متحدہ کی رپورٹ

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2024 میں 49 لاکھ بچے ایسی بیماریوں سے جان کی بازی ہار گئے جن سے بچاؤ ممکن تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں قبل از وقت پیدائش، نمونیا اور ملیریا شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر امداد میں کمی کے باعث بچوں کی بقا کی شرح میں بہتری کی رفتار سست ہو گئی ہے، جس سے 2030 تک روک تھام کے قابل اموات کے خاتمے کا ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2015 کے بعد بچوں کی اموات کم کرنے کی رفتار میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بچہ ایسی بیماری سے نہیں مرنا چاہیے جس کا علاج ممکن ہو، مگر فنڈنگ میں کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں بچوں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں مرنے والے بچوں میں تقریباً نصف نومولود شامل ہیں۔ ان اموات کی بڑی وجوہات میں پیدائش کے دوران پیچیدگیاں، قبل از وقت پیدائش اور متعدی بیماریاں شامل ہیں، جبکہ ملیریا بھی ایک اہم سبب ہے جو ایک ماہ سے زائد عمر کے بچوں میں 17 فیصد اموات کا باعث بنتا ہے۔

مزید برآں، شدید غذائی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ بچے براہ راست غذائی قلت کے باعث ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان، صومالیہ اور سوڈان میں اس کی شرح زیادہ دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت دیگر بیماریوں سے ہونے والی اموات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال امداد میں کمی کے باعث 6,600 صحت کی سہولیات متاثر ہوئیں، جن میں سے ایک تہائی کو بند کرنا پڑا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف پیش رفت مزید سست ہو جائے گی بلکہ کئی ممالک میں پہلے حاصل کی گئی کامیابیاں بھی ضائع ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویکسینیشن، غذائیت اور صحت کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے تو لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف پیش رفت رک جائے گی بلکہ دنیا ایک بار پھر بچوں کی اموات میں اضافے کا سامنا کرسکتی ہے۔

یہ صرف اعداد وشمار نہیں، یہ انسانیت کے لیے ایک بڑا الارم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp