آرمی ایکٹ 1952ء میں ترامیم منظور، اب فوجی افسران کتنے سال بعد سیاست میں حصہ لے سکیں گے؟

جمعرات 27 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل ایوان بالا (سینیٹ) سے منظور ہو گیا، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل سینیٹ میں پیش کیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں جاری اجلاس میں وزیر دفاع اور وزیر قانون نے مشترکہ طور پر آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل پیش کیا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ، آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے پر سزا نہیں ملے گی،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص ریٹائر منٹ، استعفی یا برطرفی کے 5 سال تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

بل کے مطابق سرکاری حیثیت میں معاملات کا غیرمجاز انکشاف کرنے والے شخص کو 5 سال تک قید کی سزا ہو گی جبکہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو 2 سال قید کی سزا ہو گی۔

آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو توالیکٹرانک کرائم کےتحت کاروائی ہوگی، فوج کوبدنام یا نفرت انگریزی پھیلائے پر2 سال قید اورجرمانہ ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال: عام انتخابات کے سرکاری نتائج جاری، بلندر شاہ کی پارٹی دوتہائی اکثریت سے 2 سیٹیں پیچھے

آپریشن غضب للحق: پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ٹھکانے تباہ

بنگابندھو امن مارچ کے دوران گرفتار ڈھاکہ یونیورسٹی کے استاد کی ضمانت مسترد

معروف حریت پسند کشمیری رہنما شبیر شاہ ضمانت پر رہا

بنگلہ دیش پارلیمنٹ: صدر کے خطاب پر اپوزیشن کا واک آؤٹ، وزیرِ داخلہ نے تضاد قرار دیدیا

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

ڈیرہ اسماعیل خان میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت