غزہ میں صہیونی فوج کی بمباری سے بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہو رہے ہیں جس کے باعث طبی پیچیدگیوں پر زخمیوں کے اعضا بھی کاٹنے پڑ رہے ہیں اور اسی قسم کی آزمائش کی شکار ایک فلسطینی بچی ڈاکٹروں سے ضد کر رہی ہے کہ وہ اس کی اصلی ٹانگیں اس کے جسم پر دوبارہ لگادیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناصر اسپتال میں داخل 13 سالہ لیان الباز گزشتہ ہفتے خان یونس کے القارا محلے میں ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے سے اپنی ٹانگیں گنوا بیٹھی ہے اور اسے مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی ہیں۔
درد کی شدت سے جاگ جانے پر جب بھی لیان الباز کی نظر اپنی اجنبی ٹانگوں پر پڑتی ہے ہے تو وہ چیخ اٹھتی ہے اور ڈاکٹروں سے کہتی کی اسے مصنوعی اعضا نہیں چاہیے اس کی اصلی ٹانگیں ہی لگادی جائیں۔ وہ کہتی ہے کہ ڈاکٹر تو سب کچھ کر سکتے ہیں اس لیے وہ اس کی اصلی ٹانگ لگادیں یا ٹانگ کے بچ جانے والے حصے کو تھوڑا بڑا کردیں۔
معصوم بچی اکثر یہی ضد کرتی رہتی ہے کہ وہ جانتی ہے کہ ڈاکٹر اصلی ٹانگیں دوبارہ لگا سکتے ہیں لہٰذا اس کی ٹانگیں اسے واپس دلوائی جائیں۔
لیان کی والدہ لامیہ الباز بتاتی ہیں کہ لیان یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب اس کے دوست اپنے پیروں پر چلیں گے اور وہ نہیں چل سکے گی تو وہ اسکول کیسے جایا کرے گی۔ والدہ کے مطابق لیان بڑی ہوکر نرس بننا چاہتی ہے تاکہ مریضوں کی خدمت کرسکے۔ بچی کی والدہ نے مزید بتایا کہ بم دھماکے میں ان کی 2 بیٹیاں اور 2 نواسے بھی جاں بحق ہوئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں تقریباً ساڑھے 9 ہزار شہادتیں ہوچکی ہے اور شہید ہونے والوں میں 3900 بچے اور 2509 خواتین بھی شامل ہیں۔
لیان کی طرح 14 سال کی لمی الآغا اور اس کی 15 سالہ بہن سارہ بھی صیہونی فوج کے حملوں میں زخمی ہوئیں اور برنز وارڈ میں زیر علاج ہیں جبکہ ان کی ایک بہن اور چھوٹا بھائی نے جام شہادت نوش کیا۔ لمی کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی ہے تاہم اس باہمت لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ٹانگ لگوارہی ہے۔
لمی کی بچپن سے ڈاکٹر بننے کی خواہش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھے گی اور اپنے خاندان کے لیے مضبوط سہارہ بھی ثابت ہوگی۔
ناصر ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناھض ابو طعیمہ نے میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اور دستیاب صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹرز کے پاس پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے اعضا کاٹنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات فیصلہ بہت مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ہم زخمی شخص کی جان اور زخمی عضو کو بچانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔