پاکستان واپسی پر نواز شریف نے مینار پاکستان پر ایک تقریر کی۔ اپنے سپورٹرز کو انہوں نے اپنا ’مائی بیسٹ فرینڈ‘ والا مضمون ہی سنایا کہ میں نے موٹروے بنایا، میٹرو بنائی، مجھے کیوں نکالا، ساتھ میں سب کو تسبیح کرنے اور درود پڑھنے کی تلقین بھی کی۔ اس سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ نواز شریف نے گھر کے ایک بڑے بزرگ والی ’فیل‘ لے لی ہے۔
اسی تقریر میں نواز شریف نے اہم دارلحکومتوں کو بھی ایک پیغام دیا۔ نارتھ ساؤتھ کاریڈور کا اشارہ جو بنگلہ دیش سے انڈیا کے راستے سینٹرل ایشیا تک جائے گا۔ کشمیر کے مسئلہ کا باعزت حل، ہمسائیوں سے اچھے تعلقات، معیشت پر توجہ مرکوز رکھنے کی بات کی۔ یہ سب کہتے ہوئے ایک بار بھی سی پیک کا ذکر نہیں کیا۔ سی پیک کا ذکر نہ کرنے سے ہم 2 مطلب لے سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہماری چین والی پارٹی پکی ہے، دوسرا یہ کہ اس پر اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کو بھی دور کیا جاسکتا ہے یعنی معاہدے بہتر کرنے کا ایک امکان ہوسکتا ہے۔
قوم تو اللہ میاں کی گاں ہے جس پر رب کا شکر ادا کرنے کا شاعر نے کہہ رکھا ہے۔ اصل پیغام وہ ہے جو دنیا کو دیا گیا۔ ہمارے خطے کے حوالے سے یہ غیرروایتی اشارے ہیں۔ الیکشن مہم شروع کرتے ہوئے پاکستان انڈیا میں حساس موضوع پر نرمی کا کوئی سگنل نہیں دیا جاتا۔ کام چک کے رکھا جاتا ہے، ایک دوسرے کو تڑیاں دی جاتی ہیں۔ اپنا ووٹر پکا کیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے الیکشن مہم کا آغاز امن تعلقات بہتر کرنے کے اعلان سے کیا جارہا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں ہی کشمیر پر رعایت دینا یا اس کی بات کرنا مشکل ہے۔ واجپائی لاہور آئے تو کارگل ہوگیا تھا۔ یہی واجپائی جب مشرف کے ساتھ دوبارہ معاملات طے کرنے کے قریب تھے تو تب بی جے پی کی ہارڈ کور کی قیادت کرتے ہوئے ایل کے ایڈوانی نے ایک سیدھی ٹکر مار کر سارا معاملہ بگاڑ دیا تھا۔
نواز شریف ایک بڑی بات کررہے ہیں۔ ٹھپہ ان پر پنجاب کے لیڈر ہونے کا ہے۔ خیبر پختونخوا اور سندھ کو انہوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ بلوچستان میں ان کی حکومت الٹا کر بہت فلمی انداز میں باپ پارٹی بنا دی گئی تھی۔ اب نواز شریف کوئٹہ پہنچے ہیں تو الیکٹیبلز کی ایک لمبی لسٹ ہے، 2 درجن سے زائد جن کو ایک بار پھر مسلم لیگ نون اور نواز شریف سے سچا پیار ہوگیا ہے۔ بات یہیں تک نہیں رکتی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جے یو آئی، ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی اور ایسی قبائلی شخصیات بھی جاکر نواز شریف سے ملی ہیں جو مسلم لیگ نون میں نہیں آرہی ہیں۔
نواز شریف اصل میں یہ بتا رہے ہیں کہ یہ پاکستان کا سب سے مشکل صوبہ ہے۔ یہاں علیحدگی کی مسلح تحریک چل رہی ہے۔ ادھر کوئی مجھ سا ہے تو سامنے آئے۔ وہ سارے جو پارلیمانی سیاست کرتے ہیں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ سب خیر سے پہلے بھی نواز شریف کے ساتھ رہے ہیں۔ اختر مینگل بھی پی ایم ایل این کی حمایت سے وزیراعلیٰ رہے۔ چاغی کے ایٹمی دھماکے ہوئے تو بطور میزبان نواز شریف کی گاڑی چلاتے پائے گئے۔ نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے جنگیز مری بھی مسلم لیگ نون میں ہی چلے آرہے ہیں لمبے عرصے سے۔ ان کے وہ 2 بھائی بھی مسلم لیگ نون میں رہے ہیں جو بعد میں مسلح تحریک کی طرف چلے گئے تھے۔ پیغام بڑا واضح ہے کہ جہاں ویسے بہت مشکل ہے مجھے وہاں بھی کوئی مشکل نہیں۔
ادھر ایک بات اور بھی ہے نوٹ کرنے کی، میڈیا کا اس طرف دھیان نہیں گیا۔ حوالدار بشیر کو ایسی باتیں خفیہ رکھنے کی عادت ہے جس سے اس کی سچ میں کوئی واہ واہ کردے۔ بلوچستان میں کچھ حوالوں سے فوج پیچھے ہورہی ہے۔ کنٹرول سول کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔ وہ پرمٹ جو پہلے ایف سی جاری کرتی تھی اب وہ اختیار ڈپٹی کمشنر کو چلا گیا ہے۔ عادت تو نہیں جاتی، خان اور سردار خود بھی پوچھنے سے نہیں ٹلتے کہ آپ کی کیا صلاح ہے لیکن سیاست میں مداخلت اور اس کے نتائج کا ادراک موجود ہے۔ جب رہنمائی نہیں کی جا رہی تو جو سیاست کرتا ہے وہ خود حساب لگائے گا تو کدھر جائے گا۔ اس لیے وہ مسلم لیگ نون کی جانب لڑھک گیا ہے۔
مسلم لیگ نون نے ایک سروے کرایا تھا۔ جب یہ ہوا تھا تب ہی فوراً ایک پٹواری نے خوشی خوشی بتا دیا تھا کہ ہم جیت رہے ہیں۔ تب نواز شریف ابھی پاکستان بھی نہیں آئے تھے۔ کئی مہینے پرانی بات ہے۔ تب حیرت ہوئی تھی، اب زیادہ ہورہی ہے۔ اس سروے میں بلوچستان سے مسلم لیگ نون نے 4 سے 6 قومی نشستوں کا اندازہ لگایا تھا۔ تب گپ لگی تھی، اب ممکن دکھائی دیتا ہے تو حیرت ہوتی ہے۔
نواز شریف کو امپائر ساتھ ملا کر کھیلنے کی عادت ہے، یہ اس مفکر نے ساری قوم کو رٹا لگوا رکھا ہے جو صرف اپنے خیالات اور ان کے اظہار کی وجہ سے اب اڈیالہ بیٹھا سوچ رہا ہے کہ ویسے میں یہاں پہنچا کیسے ہوں۔ چینی مفکر سن تزو کہہ گیا ہے کہ اچھا جنرل جیتتا پہلے ہے اور جنگ پر بعد میں نکلتا ہے۔ آپ جس مرضی مفکر کے قائل ہو جائیں آپشن دونوں دے دیے ہیں، چینی بھی دیسی بھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











