الیکشن کمیشن غلط بیانی کر رہا تھا میں اس لیے بول پڑی، مشال یوسفزئی

جمعہ 15 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی خاتون وکیل کی جانب سے عدالتی آرڈر کی ڈکٹیشن کے دوران مداخلت پرچیف جسٹس شدید برہم ہو گئے۔

چیف جسٹس نے کہا کیا آپ وکیل ہیں؟ کہاں سے پڑھ کرآئی ہیں، سپریم کورٹ آرڈرلکھوا رہی ہے اور آپ نے بیچ میں بولنا شروع کردیا، آپ کواس عدالت کی کوئی عزت نہیں، اگر دوبارہ مداخلت کی تو توہین عدالت لگا دیں گے، سب سے پچھلی نشستوں پرجا کر بیٹھیں۔ اس دوران اٹارنی جنرل بھی بول پڑے اور کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی وکیل نہیں ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جانب سے سرنزش کیے جانے پر پی ٹی آئی خاتون وکیل مشال یوسفزئی نے کہا کہ ’میں سپریم کورٹ میں اس لیے بولی کہ الیکشن کمیشن غلط بیانی کر رہا تھا‘۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر مشال یوسفزئی اس وقت ٹرینڈ کر رہی  ہے اور سوشل میڈیا صارفین سپریم کورٹ میں پیش آنے والے واقعے پر اس پر اپنا رد عمل دے رہے ہیں ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟