ایمازون کا 18 ہزار سے زیادہ ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

جمعرات 5 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی ایمازون نے 18 ہزار سے زیادہ ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی کمپنی نے کبھی اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کو نکالا نہیں تھا۔

کمپنی نے افرادی قوت میں کمی لانے کی وجہ ‘غیریقینی معیشت’ کو قرار دیا۔

ٹوئٹر کے بعد ایمازون کا اپنے 10 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا ارادہ

ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی نے ایک میمو میں کہا کہ کمپنی کے 18 ہزار سے زیادہ افراد کی چھانٹی کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملازمین کی چھانٹی کا آغاز 18 جنوری سے ہوگا جبکہ ای کامرس اور انسانی وسائل کے شعبے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ایمازون کے ملازمین کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ وال مارٹ کے بعد افرادی قوت کے لحاظ سے امریکا کی دوسری بڑی کمپنی ہے۔

اس سے قبل ای کامرس کمپنی نے نومبر 2022 میں بھی ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کیا تھا۔

اس وقت تعداد تو نہیں بتائی گئی مگر ایک رپورٹ کے مطابق 10 ہزار افراد کو نکالنے کا ہدف طے کیا گیا تھا۔

نئے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن ممالک میں ایمازون کی جانب سے ملازمتوں میں کٹوتی کی جائے گی۔

اس سے قبل میٹا اور ٹوئٹر جیسی کمپنیاں بھی ہزاروں ملازمین کو فارغ کرچکی ہیں جبکہ گوگل کی جانب سے اس حوالے سے غور کیا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی ایس ایل 11 کا فائنل آج، پشاور زلمی اور حیدرآباد کنگز میں ٹائٹل کی جنگ

انسانیت کے لیے خدمات کا اعتراف، کینیڈا میں پارک ٹریل کو پاکستانی نژاد ہارون خان کے نام کردیا گیا

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی ’دوستانہ‘ ہے، ایرانی تجاویز کا جلد جائزہ لوں گا، صدر ٹرمپ

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ