مالدیپ نے بھارت کو فوجی انخلا کے لیے 15 مارچ کی ڈیڈ لائن دیدی، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان

اتوار 14 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے بھارت کو 15 مارچ کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ اپنے فوجی دستوں کو مالدیپ سے واپس بلا لے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مالدیپ کے کچھ وزرا کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیں

 تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مالدیپ میں 88 بھارتی فوجی دستے موجود ہیں، جنہیں مالدیپ کی نیشنل ڈیفنس فورس کو تربیت اور مدد فراہم کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدے کے حصے کے طور پر 2018 میں وہاں تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم، نومبر 2023 میں بھارت مخالف مہم کے ساتھ اقتدار میں آنے والے محمد معیزو بار بار اس فوجی دستے کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالدیپ کے عوام نے انہیں بھارتی فوجیوں کے انخلا کو ممکن بنانے کے لیے ایک مضبوط مینڈیٹ دیا ہے۔

 

میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر دفتر کے پبلک پالیسی سیکریٹری عبداللہ ناظم ابراہیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ محمد معیزو نے باضابطہ طور پر بھارت سے 15 مارچ تک اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صدر اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی ہے اور فوجیوں کے انخلا پر بات چیت کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا کور گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔ گروپ نے اپنا پہلا اجلاس اتوار کی صبح مالے میں وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد کیا جس میں بھارتی ہائی کمشنر منو مہاور نے بھی شرکت کی۔

بھارتی حکومت نے فوری طور پر اس اجلاس کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کی تصدیق یا اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بھارت اور مالدیپ کے درمیان روایتی طور پر قریبی تعلقات رہے ہیں، لیکن محمد معیزو کے انتخاب کے بعد سے تعلقات میں تلخی دیکھنے میں آئی ہے، محمد معیزو کو چین نواز رہنما سمجھا جاتا ہے۔

چین کے اپنے حالیہ سرکاری دورے کے دوران محمد معیزو نے مالدیپ کو بیجنگ کے قریب لانے کی کوشش کی اور تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے پر متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر بھارت کو بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

مالدیپ بحر ہند میں اسٹریٹجک لحاظ سے ایک اہم ملک ہے جہاں بھارت اور چین اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کی سطح پر آ گئے ہیں۔ بھارت مالدیپ کو اپنے مفاد کا حصہ سمجھتا ہے اور ماضی میں اس ملک کو معاشی اور فوجی امداد فراہم کر چکا ہے۔

دوسری جانب چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے حصے کے طور پر مالدیپ میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور وہاں بندرگاہیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تعمیر کیے ہیں۔ مالدیپ چین کی زیر قیادت ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کا بھی رکن ہے۔

 بھارتی فوجیوں کے انخلا کے لیے محمد معیزو کی جانب سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے اور اس کے علاقائی سلامتی اور استحکام پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارت اس مطالبے کا کیا جواب دیتا ہے اور کیا دونوں فریق بات چیت اور تعاون کے ذریعے اپنے اختلافات کو حل کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp