سندھ ہائیکورٹ کا دعا زہرہ کو والدین کے حوالے کرنے کا حکم

جمعہ 6 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرہ کو عارضی طور پر والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے، تاہم مستقل حوالگی کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق دعا زہرہ نے عدالت میں بیان دیا کہ میرے ماں باپ اور بہن عدالت میں موجود ہیں، اور وہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔ جس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے دعا کو والدین کے حوالے کر دیا۔

فیصلہ میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس اقبال نے کہا کہ بچی چھوٹی ہے، وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے، شیلٹر ہوم میں نہیں جانا چاہتی۔

اس کے بعد دعا زہرہ کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے ٹوئٹ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سات ماہ کی طویل جنگ کے بعد متاثرہ بچی آخر کار گھر لوٹ رہی ہے۔

واضح رہے سندھ ہائی کورٹ نے گذشتہ برس جولائی میں اس کیس کے تفتیشی افسر کو دعا زہرا کو شیلٹر ہوم کراچی منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔ فیصلے میں سندھ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ دعا زہرا اس کیس کا مرکزی کردار ہیں اور ٹرائل کورٹ میں ان کا کیس زیر التوا ہے اس لیے کراچی میں ان کی موجودگی ضروری ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بظاہر دعا زہرا اپنے شوہر سے ناخوش ہیں اور ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تاہم دوسری جانب وہ اپنے والدین سے بھی خوفزدہ ہیں اس لیے شیلٹر ہوم میں رہنا ان کے لیے مناسب ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چینی کی ہول سیل قیمتوں میں نمایاں کمی، عوام کو ریلیف

سڈنی ساحل پر فائرنگ کے بعد ایشز سیریز کے لیے سیکیورٹی سخت کر دی گئی

چین کی مکمل حمایت سے پاکستان برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے، نذیر حسین

کیا آنگ سان سوچی انتقال کرگئیں، بیٹے کا بیان سامنے آگیا

آبادی میں کمی: چین کا بچوں کی پیدائش تقریباً مفت بنانے کا فیصلہ

ویڈیو

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

پاؤں سے پینٹنگز بنانے والی گلگت بلتستان کی باہمت فنکارہ زہرا عباس کی بے مثال کہانی

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی