غزہ پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف برطانوی ’شاہی مداخلت‘ کیوں؟

بدھ 21 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی شہزادہ ولیم نے غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کی ’انسانی قیمت‘ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے، ان کے اس بظاہر غیر متوقع بیان کو فلسطینیوں کیخلاف جاری اسرائیلی جنگ میں ’شاہی مداخلت‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

اپنے اس حالیہ بیان سے 41 سالہ پرنس آف ویلز ولیم نے اسرائیل-حماس جنگ کے بارے میں شاہی خاندان کے ردعمل کو مہمیز دی ہے جو وہ اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اپنے پہلے ‘پریشانی’ کے مشترکہ بیان کی صورت میں جاری کرچکے تھے۔

لیبر لیڈر سر کیر اسٹارمر کی جانب سے ‘فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی’ کے مطالبے کے چند گھنٹوں بعد ایک نئے اور پرجوش بیان میں شہزادہ ولیم نے اصرار کیا ہے کہ گزشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرد حملے کے بعد سے بہت زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔

برطانوی میڈیا کو انٹرویو میں ایک کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹنے شہزادہ ولیم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس بیان میں ‘حکومت جیسی زبان’ استعمال کی گئی ہے لیکن پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ شہزادہ ولیم کو اس مسئلے پر لب کشائی نہیں کرنا چاہیے تھی۔

اسکاٹش نیشنل پارٹی کی جانب سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ کل اپوزیشن کی بحث میں اسے کیسے دیکھا جائے گا، ریفارم یو کے پارٹی کے صدر نائجل فاراج نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ہمارے مستقبل کے بادشاہ کو ایسا کرنا چاہیے، انہیں برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس یعنی بافٹا تک ہی رہنا چاہیے۔

شہزادہ ولیم اپنی اہلیہ کی سرجری کے بعد عوامی مصروفیات میں واپس لوٹ رہے ہیں، پھر بھی ان کا تازہ سخت بیان تخت سنبھالتے وقت ان کے ارادوں کا پتا دیتا ہے، شاہی کے عوامی تبصرے شاہی خاندان کے کسی بھی رکن کی جانب سے اسرائیل-حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہ صرف بہت واضح ہیں اور آنجہانی ملکہ کی جانب سے سیاسی معاملات پر تبصرہ سے گریزکی پالیسی کے بالکل برعکس بھی۔

شاہ چارلس سوئم کے فرزند شہزادہ ولیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گرد حملے کے بعد سے مشرق وسطی میں تنازعات کی خوفناک انسانی قیمت پر انہیں گہری تشویش ہے، جس میں اب تک بہت زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔

‘میں، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، جلد سے جلد جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہوں، غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی اشد ضرورت ہے، یہ بہت اہم ہے کہ امداد وہاں پہنچ جائے اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔۔۔ بسا اوقات شدید انسانی مصائب کا سامنا اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ پائیدار امن کا خیال جاگزیں ہوتا ہے۔‘

شہزادہ ولیم کے مطابق تاریک ترین گھڑی میں بھی ہمیں مایوسی کے مشورے کے آگے نہیں سر نہیں جھکانا چاہیے۔ ’میں اس امید سے جڑا رہوں گا کہ ایک روشن مستقبل تلاش کیا جاسکتا ہے، اور میں اس سے دستبردار ہونے سے انکار کرتا ہوں۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

سعودی عرب نے سابق امریکی سینٹکام کمانڈر کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نواز دیا

’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ