ملکی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، آرمی چیف

ہفتہ 9 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مسلح افواج کو دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ پاکستان کی مسلح افواج قوم کی حمایت سے اپنے مادر وطن کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے رحیم یار خان کے قریب فیلڈ مشقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پورا دن جوانوں کے ساتھ گزارا، اس دوران انہوں نے ٹینک، انفنٹری، آرٹلری ایئر ڈیفنس اور اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کا مشاہدہ کیا۔

کور کمانڈر کراچی اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا استقبال کیا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ’شمشیرِ صحرا‘ مشقوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے تربیتی معیارات، آپریشنل تیاریوں اور تمام رینک کے اعلیٰ حوصلے کی تعریف کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مشق کا مقصد پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ اور مستقبل کے میدان جنگ کے چیلنجوں سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ مشق میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا، جبکہ الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیتوں اور معلوماتی آپریشنز کو بھی شامل کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ