شیرافضل مروت اور شاندانہ گلزار مریم نواز سے معافی مانگیں، عظمی بخاری

بدھ 20 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ رہنما تحریک انصاف شیر افضل مروت کے بعد شاندانہ گلزار بھی اپنے بیان سے مکر گئی ہیں، دونوں کو اب مریم نواز سے معافی مانگی چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ شیر افضل نے کہا میری سپاری دی گئی ہے اور شاندانہ گلزار نے مریم نواز پر ظل شاہ کے قتل سے متعلق گھٹیا ترین الزام لگایا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یاسمین راشد کا ڈرائیور بہت پہلے بتاچکا ہے کہ ظل شاہ کا قاتل کون ہے، شیر افضل مروت اور شاندانہ گلزار اپنے لیڈر کی طرح دم دبا کر بھاگنے کے عادی ہیں، دونوں کو وزیر اعلیٰ مریم نواز پر الزامات پر معافی مانگنی چاہیے۔

وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ یہ لوگ پہلے شیر بنتے ہیں پھر پتہ چلتا ہے گیدڑ ہیں، دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا، جھوٹے الزامات لگانا اور پروپیگنڈا کرنا پی ٹی آئی کا پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن اب ان کو ہر الزام کا جواب بھی دینا ہوگا اور ثبوت بھی دینا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ  پہلے الزام لگاؤ، کسی کی کردار کشی کرو، پھر اس سے مکر جاؤ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دوحہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت، قطر نے امریکا اور ایران کے مزید مذاکرات کا عندیہ دے دیا

بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ کا ہیلی کاپٹر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور، ایک اہلکار لاپتا، 3 زخمی

امریکا، ایران مذاکرات کا دوحہ دور ختم، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثے مذاکرات کا محور رہے

فیفا ورلڈکپ 2026: تینوں میزبان ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

ویڈیو

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

وی ایکسکلوسیو: اپوزیشن اس بار مذاکرات کے لیے سنجیدہ نظر آ رہی ہے، حکومت جواب کی منتظر ہے، طارق فاضل چوہدری

کالم / تجزیہ

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟