روزے کے جسمانی و دماغی صحت پر اثرات، کیا احتیاط کی جائے؟

اتوار 19 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور پوری دنیا میں مسلمان اس ماہ مقدس کے استقبال کی تیاریوں کا اغاز کر رہے ہیں۔ گو روزے کا اہتمام کرتے وقت مسلمانوں کے پیش نظر محض حکم الٰہی اور اس کی رضا ہی ہوتی ہے تاہم روزوں کے جسم و دماغ پر اثرات کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے ماہرین تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

العربیہ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کی رائے میں روزہ جہاں جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے وہیں یہ انسان کے لیے ذہنی لحاظ سے بھی سود مند ہوتا اور اس سے اضطراب، ڈپریشن اورتناؤمیں کمی میں مدد دیتا ہے۔

ابوظبی کے برجیل اسپتال میں ماہرنفسیات ڈاکٹر ندا عمرمحمد البشیر کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت پر روزے کے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جولوگ روزہ رکھتے ہیں ان میں ڈپریشن، اضطراب اور یہاں تک کہ تناؤ کی علامات میں بہتری کا انکشاف ہوا ہے اور وہ رمضان کے دوسرے ہفتے میں تھکاوٹ میں کمی واقع ہونے کا بتاتے ہیں جس کی وجہ کیٹون میٹابولزم اوراس کے سوزش مخالف اثرات کو قراردیا جاسکتا ہے جو تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔

نیوروٹرانسمیٹردماغ کے ضروری کیمیائی اجزاء ہیں جو سگنل بھیجتے ہیں اور وہ نہ صرف ہمارے کام کرنے،بولنے اورسوچنے کے طریقے کومتاثرکرتے ہیں بلکہ محسوسات پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ اسٹڈیز سے معلوم ہوا ہے کہ روزہ رکھنے سے خون میں سیروٹونن کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے جو کہ ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو ڈپریشن اور اضطراب سے منسلک ہے۔ ڈوپامائن ایک اور نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو ڈپریشن اور نفسیات سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے اور یہ روزہ رکھنے سے تبدیل نہیں ہوتا ہے۔

دوائیں استعمال کرنے والے افراد کیا احتیاط کریں؟

ڈاکٹر ندا نے کہا کہ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ رمضان میں ان افراد کوروزہ تجویز نہیں کیا جاتا ہے جو طبی پیچیدگیوں کے خطرے سے دوچارہیں یا جو پہلے سے ذہنی صحت کے معاملات میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزہ رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ جسمانی اور ذہنی صحت کی باریک بینی سے نگرانی کریں اور اگر ضروری ہو تو پیشہ ورمعالجین سے مشورے حاصل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ادویہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ مقدس مہینے سے پہلے معالج سے بھی مشورہ کریں کیوں کہ ادویہ کا بروقت استعمال ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائی پولر ڈس آرڈر اور انشقاق ذہنی شیزوفرینیا میں مبتلاافراد کواپنی ادویہ کو معالج کے مشورے یا سفارش کے مطابق برقرار رکھنا چاہیے۔

جو لوگ دن میں ادویہ لیتے ہیں انہیں چاہیے کہ اگروہ روزہ کاانتخاب کرتے ہیں تو دوا مکمل مقررہ مقدار میں لی جائے لیکن افطار یا سحرمیں اوقات کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر یہ لوگ روزہ رکھنے اور وقت کو تبدیل کرنے کاانتخاب کرتے ہیں تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلینا چاہیے۔

تناؤ میں کمی

انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کی ماہرنفسیات ڈاکٹر فری نازآغا جان ناشتائی نے بتایا کہ متعدد مطالعات سے پتاچلا ہے کہ روزہ رکھنے سے ذہنی صحت پرمثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جیسا کہ تناؤ، اضطراب اور افسردگی کی علامات کو کم کرنا۔

ڈاکٹر فری ناز نے کہ ایک مطالعہ سے پتاچلا ہے کہ رمضان میں روزہ رکھنے سے ایسے افراد میں تناؤ اور اضطراب کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ ایک اور مطالعہ سے پتاچلا ہے کہ روزہ اعصابی لچک (نیوروپلاسٹسٹی) کو بڑھاسکتا ہے جوافسردگی کی علامات کو کم کرنے میں کردارادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزہ دماغی افعال کوبہتر بنانے اورعمر سے متعلق دماغی تنزل کو روکنے میں بھی معاون ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ روزہ فالج کے بعد نیوروڈیجنریشن کو سست اورافعال کی بحالی کو بڑھا سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی، تھکاوٹ چڑچڑاپن، موڈمیں تبدیلی اورتوجہ میں دشواری کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ نیند کے اندازاورغذامیں تبدیلی، اضطراب، افسردگی اورتناؤکا باعث بن سکتی ہیں۔

احتیاطی اقدامات

ماہرین کا مشورہ ہے کہ جو افراد رمضان میں روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اپنی ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنا چاہییں۔

روزہ کے علاوہ اوقات میں مناسب ہائیڈریشن اور غذائیت سے ایسی جسمانی علامات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے جو ذہنی صحت کو متاثرکرسکتی ہیں۔ مزید برآں جسمانی سرگرمیوں میں مشغول ہونے اور سماجی رابطوں کو برقرار رکھنے سے تنہائی اور افسردگی کے احساسات کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کی نظر میں رمضان کے دوران اچھی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ خود کی دیکھ بھال کی مشق کی جائے۔ اس میں غیرروزہ کے اوقات میں متوازن اور صحت مند غذا کھانا، ہائیڈریٹڈ رہنا، کافی آرام کرنا، باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی میں مشغول ہونا اور تناؤ سے نمٹنے کے لیے آرام کی تکنیک پرعمل کرنا شامل ہیں۔

پہلے سے موجود ذہنی صحت کے حالات یا دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ادویہ یا علاج کے منصوبوں میں کوئی تبدیلی کرنے سے پہلے معالجین صحت سے مشورہ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی کی جسمانی اور ذہنی صحت کی ضروریات کی مناسب دیکھ بھال اور توجہ کے ساتھ رمضان ایک بامعنی اور فائدہ مند تجربہ ہوسکتا ہے جو روحانی اور جسمانی دونوں طرح کی فلاح وبہبود کو فروغ دیتا ہے۔

این ایم سی رائل اسپتال کے کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹرسوشیل گرگ نے بتایا کہ ماہ مقدس کے دوران روزہ رکھنے والے افراد کے کھانے پینے کی عادات، نیند کے انداز اور روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں آتی ہیں جن سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی جسمانی اور جذباتی تندرستی کی دیکھ بھال کے لیے مناسب اقدامات کرکے صحت مندی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

غذا کا انتخاب

ابوظبی کے ایل ایل ایچ اسپتال کے ماہر نیورولوجسٹ ڈاکٹر بوبی بیبی پانی کولم نے خبردارکیا کہ کچھ احتیاطی تدابیر ہیں جو دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو سردرد، دردشقیقہ اور دورے جیسے اعصابی مسائل سے نمٹنے کے لیے اختیار کرنی چاہییں۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں کچھ ذہنی صحت کے مسائل ڈی ہائیڈریشن،نیند میں تبدیلی، کیفین کی واپسی اور روزے کے اوقات میں خون میں گلوکوزکی کم سطح کی وجہ سے بدترہوسکتے ہیں اور دائمی اعصابی مسائل جیسے ملٹی پل سکلیروسس اوراسٹروک کے مریض روزے کے دوران کوئی بھی نئی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طورپر معالج کو بتائیں۔

رمضان میں دردشقیقہ کے مریضوں کواس کے متحرک کرنے والے عوامل جیسے تیزروشنی، اونچی آوازوں اورجسمانی اورنفسیاتی تناؤ سے بچنا چاہیے اور اس کے علاوہ کیفین کا استعمال کم اور افطارکے وقت اوربعد میں زیادہ تمباکو نوشی سے گریزکرنا چاہیے۔

ڈاکٹرنے افطاراورسحرکے وقت متوازن اور صحت مند غذا کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جس میں سوڈیم کی مقدارکم ہواوراس میں تلی ہوئی غذائیں شامل نہ ہوں۔

انھوں نے کہا:’’علامات کوبہتربنانے اور روزے کے اوقات کے دوران میں درکارتوانائی کی سطح کو بڑھانے کے لیے وقفے وقفے سے متعدد کھانے کا ہدف رکھا جائے اور روزہ کھولنے سے پہلے چند گھنٹے آرام کرنے کی کوشش کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp