رمضان کا مقدس مہینہ قریب ہے اور دنیا بھر کے مسلمان چاند دیکھنے کے لئے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں 21مارچ کی شام کو چاند نظر آنے کی صورت میں اس سال رمضان کا آغاز 22 مارچ سے متوقع ہے۔
صبح سحری کے بعد سے غروب آفتاب تک کچھ بھی نہ کھانے پینے کے بعدروایتی طور پر روزہ کھجور کے ساتھ افطار کیا جاتا ہے لیکن ذیابیطس کے شکار افراد کو کافی دیر تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد روزوں کے دوران احتیاط برتنی چاہیے۔
ذیابیطس کے شکار افراد کو انسولین کی خوراک کو ایڈجسٹ کرنے یا ذیابیطس کی دوائیوں میں تبدیلی کے حوالے سے اپنے معالج سے مشورہ کرلینا چاہیے۔
روزے کے دوران ذیابیطس کے مریضوں کواپنے خون میں شکر کی سطح کی باقاعدگی سے نگرانی کرتے رہنا چاہیےکیونکہ انہیں ہائپو گلیسیمیا یا ہائپر گلیسیمیا کا خطرہ ہوتا ہے۔
رمضان المبارک میں روزے رکھنا، صبح سے شام تک کھانے پینے سے مکمل پرہیز، ایسے میں شوگر کے مریضو ں کو زیادہ دیر تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
روزوں میں سحری جو سورج نکلنے سے پہلے دن کا پہلا کھانا ہوتا ہے اگر اس میں غذائیت سے بھرپور غذائیں استعمال کی جائیں تو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
مناسب ہائیڈریشن، غذائیت سے بھرپور غذائیں کھانے اور زیادہ شوگر اور کیلوریز والی غذاؤں سے پرہیز روزے کے دوران ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
رمضان المبارک میں لوگوں کو روزے میں کئی گھنٹوں تک بھوکا پیاسا رہنا ہوتا ہے اسی لئے وہ سحری اور افطاری میں زیادہ کھانے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے خطر ناک ہو سکتا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران تلی ہوئی اشیا،کھانوں میں زیادہ تیل کا استعمال اور زیادہ میٹھے کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو بڑھا سکتا ہے اور فیٹی لیور، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر جیسی خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔
روزوں میں ذیابیطس کے مریضوں کے لئے احتیاطی تدابیر
1۔ بھرپور نیند لینا

نیند ان چیزوں میں سے ایک ہے جس پر آپ کو کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
غذائیت کے ماہر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہمارے جسم کی مجموعی تندرستی کے لیے، خاص طور پر روزے کے دوران، نیند کا پورا ہونا ضروری ہے۔
رمضان المبارک میں ہمیں اتنی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمیں دن میں تھکاوٹ محسوس نہ ہو اسی لیے ڈاکٹر سحری سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے جاگنے اور مناسب اور پر سکون طریقے سے کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
’ایسا کرنے سے کھانا ہضم ہونے اور بعد میں ہاضمے کے مسائل سے بچنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔‘
2۔ روزہ رکھنے سے پہلے اور افطاری کے بعد اپنے آپ کو اچھی طرح ہائیڈریٹ کریں۔

ماہرین کے مطابق ہائیڈریٹنگ ڈرنکس ان لوگوں کے لیے اہم ہیں جو روزہ رکھتے ہیں کیونکہ ڈی ہائیڈریشن ایک عام اور سنگین مسئلہ ہے جس کا سامنا خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو کرنا پڑتا ہے۔ لیموں پانی،چھاچھ،ناریل کا پانی،خربوزے،کم چینی والے تازہ پھلوں کا رس،انار کا شیرہ اور گلاب سے بنے شربت جسمانی رطوبتوں کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں کافی ہائیڈریٹنگ ہوتی ہیں۔
’کافی ،چائے جیسے کیفین والے مشروبات جسم سے معدنیات اور نمکیات کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں اسی لئے ماہرین ان سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘
غذائیت سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری کھانے کے بعد ایک چمچ دہی آپ کی صحت کے لیے حیرت انگیز کام کر سکتا ہے۔ ’دہی نہ صرف معدے کو سکون بخشے گی بلکہ یہ تیزابیت کو بھی روکے گی اور آپ کو دن بھر پانی کی کمی سے محفوظ رکھے گی۔‘
3۔ شوگر فری ڈرنکس کے ساتھ روزہ کھولیں

ماہرین کے مطابق افطار کے لئے شوگر فری ہائیڈریٹنگ ڈرنک کے ساتھ روزہ کھولیں اور کھانا بھی اعتدال کے ساتھ کھائیں۔
چکنائی والے کھانوں،کاربو ہائی ڈریٹ اور نمک جیسے سموسے،کباب اور پوڑی جیسی غذاؤں سے دور رہیں۔
پتوں والی سبزیاں، پھل اور خشک غذاؤں اور کم چکنائی والے کھانوں کا استعمال کریں۔
4۔تین S سے پرہیز : سالٹ، اسپائسی اور شوگر فوڈ

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری میں مصالحے، نمک اور چینی کی مقدار کا استعمال کم کرنا چاہیے کیونکہ زیادہ نمکین کھانے سے بعد میں پیاس لگ سکتی ہے کیونکہ خلیوں سے پانی نکل جاتا ہے۔
سحری کے لئے ایک متوازن غذا کا استعمال کریں۔جیسے پھل، سبزیاں، کم چینی والے اناج، پروٹین، دودھ اور جوس وغیرہ۔
5۔ شوگر چیک کرنا

روزہ رکھنے سے پہلے خون میں شوگر کی سطح کو چیک کرتے رہیں۔جو لوگ انسولین لیتے ہیں انہیں روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر انسولین کی خوراک بڑھانے یا خوراک کے وقت میں تبدیلی کا مشورہ دے سکتا ہے۔
گردے اور دل کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر، ٹائپ ون ذیابیطس جیسے امراض میں مبتلا افراد کو روزہ رکھنے سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہیے۔
















