پاکستان میں ہر خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنا ایک قدیم اور قابل فخر روایت سمجھا جاتا ہے۔ یہی ہوائی فائرنگ کی اندھی گولی کسی کو زخمی یا ہلاک بھی کر دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں پشاور سے تعلق رکھنے والا طالبعلم میٹرک کے امتحانات ختم ہونے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کررہا ہے۔ ویڈیو میں طالبعلموں کے گروپ کو سڑک کے کنارے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس میں سے ایک طالبعلم پستول نکال کر سرِ عام ہوائی فائرنگ شروع کر دیتا ہے جس پر باقی طلبا اس کو سراہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، صحافی فرزانہ علی لکھتی ہیں کہ میٹرک امتحانات ختم ہونے کی خوشی میں طالبعلم ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں، انہوں نے والدین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ان والدین پر حیرت ہے جنھوں نے بچوں کو یہ ہتھیار لے کر دیا ہے۔
فرزانہ علی کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسے ہی ہوائی فائرنگ سے کچھ ہو گیا تو پھر یہی لوگ کہیں گے میرا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ میں پختون ہوں۔
میٹرک امتحانات ختم ہونے کی خوشی میں طالب علم کی ہوائی فائرنگ …حیرت اُن والدین پر ہے جنھوں نے یہ ہتھیار لے کر دیا ۔
کچھ ہو جائے گا تو پھر کہیں گے
زما لویہ گنا دا دے چہ زہ پختون یم pic.twitter.com/LiJVM6dYoj
— Farzana Ali (@farzanaalispark) May 9, 2024
ایک صارف نے سوال کیا کہ کیا اس پر والدین اور طالبعلموں کے خلاف کوئی کاروائی بنتی ہے۔
کیا اس پر کوئی قانونی کاروائی بنتی ھے؟ بشمول والدین https://t.co/g7ibIrYUqt
— Muhammad Intisar ul Haq (@Intisarhaq) May 9, 2024
ایک ایکس صارف نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر پشاور کے سب سے مہذب اسکول (پشاور ماڈل اسکول) کے طالبعلموں کا یہ حال ہے تو باقی عام اسکولوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔
اور یہ سب سے مہذب اسکول پشاور ماڈل کا طالب علم ہیں تو باقی عام اسکولوں کہ تو خدا ہے حافظ ہیں
— AB Khan (@Abkhan77) May 9, 2024
دانش ولی نے پشاور پولیس کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ فائرنگ کرنے والا بچہ پشاور ماڈل اسکول کا طالبعلم ہے اور اس کا نام ملک ریحان ہے۔
https://Twitter.com/DanishWali44/status/1788521093663281511
واضح رہے کہ ایسے ہوائی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں اکثر اوقات کھیلوں اور امتحانات میں کامیابی، شادی کی تقریبات یا عید الفطر کا چاند نظر آنے پر فائرنگ کی جاتی ہے جس میں بیشتر اوقات ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔














