محبت کے نام پر دشمنی

جمعہ 31 مئی 2024
author image

عبیداللہ عابد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس بار کچھ ایسی باتیں کرنی ہیں جو یقیناً بہت سے لوگوں بالخصوص ماؤں کے منہ میں حلق تک کڑواہٹ بھر دیں گی، اور وہ کہیں گی’ بات تو ٹھیک ہے، مگر ہمارے پاس اس کے علاوہ آپشن کیا ہے؟‘

تاہم مسئلہ اس قدر زیادہ سنگین ہے کہ اس پر بات کرنا ہی پڑے گی، سوچنا ہی پڑے گا اور عمل بھی کرنا ہوگا کیونکہ ایک نسل نہیں، اگلی تمام نسلوں کی بقا کا معاملہ ہے۔

حال ہی میں بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے بچوں کو جو ڈیجیٹل آلات دیے ہیں، انھوں نے ان کی ذہنی صحت کو کس قدر متاثر کردیا ہے۔ کیا واقعی ڈیجیٹل آلات ہمارے بچوں کی ترقی کے لیے ضروری ہیں؟

یہ رپورٹ بنیادی طور پر فرانسیسی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈائریکٹر ریسرچ اور نیورو سائنس دان مائیکل ڈیسمرگٹ کی ایک کتاب سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں جو باتیں کہی گئی ہیں، وہ ہم انسانوں کے لیے فکر انگیز ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا حقائق جان کر ہم فکرمند ہوں گے؟ اور اپنے بچوں سے محبت کے نام پر دشمنی کا رویہ ترک کریں گے؟؟؟

گزشتہ ایک عرصہ کے دوران  آئی کیو لیول کے جائزوں نے ظاہر کیا  کہ ہماری آج کی نوجوان نسل پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کم ذہین ہے۔ کیا اس بات سے ہمارے رونگٹے کھڑے نہیں ہونے چاہئیں؟

مائیکل ڈیسمرگٹ آئی کیو لیول میں کمی کا ایک سبب اسکرین ٹائم بھی بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے، جب ٹیلی ویژن یا ویڈیو گیمز کا استعمال بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں آئی کیو میں کمی واقع ہوتی ہے اور علمی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ہماری ذہانت متاثر ہوتی ہے غیرضیکہ زبان، توجہ، یادداشت وغیرہ سب کچھ۔ اس کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی کارکردگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔‘

ایسا کیونکر ہوتا ہے؟ جواب نہایت سادہ ہے۔

بچے گھر والوں کے ساتھ، ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے ڈیجیٹل چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ حالانکہ اہل خانہ کے ساتھ میل ملاپ بچوں کی تربیت کے لیے ازحد ضروری ہوتا ہے۔ اگر وہ گھر کے کسی کونے میں دبک پر ڈیجیٹل آلات ہی کے ہوکر  رہ جائیں گے شاید ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اسے نظرانداز کررہے ہیں۔

کیا ہم نہیں دیکھتے کہ زیادہ اسکرین ٹائم نے بچوں کی توجہ ہوم ورک کی طرف کم کردی ہے۔ وہ بادل نخواستہ ہوم ورک کے لیے بیٹھتے ہیں، جب وہ ہوم ورک کرتے ہیں تو ان کی مکمل توجہ ہوم ورک کی طرف نہیں ہوتی۔ ان کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ پھر اس اسکرین ٹائم کی زیادتی نے بچوں کی نیند میں خطرناک حد تک کمی بھی پیدا کردی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسمانی عوارض لاگو ہوتے ہیں۔ اور پھر بچے ہر اعتبار سے ڈسٹرب ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک دلچسپ تجرباتی تحقیق کا ذکر کیا گیا ہے جس میں سکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں کو گیم کنسول دیے گئے تھے۔

چار ماہ کے دوران انھوں نے زیادہ وقت گیمز کھیلنے اور ہوم ورک کرنے میں کم گزارا۔ اس دوران ان کے گریڈ میں تقریباً پانچ فیصد کمی آئی (جو صرف چار مہینوں کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے)۔

ایک اور تحقیق میں بچوں کو الفاظ کی ایک فہرست کو سیکھنا پڑا۔ ایک گھنٹے بعد ان میں سے کچھ کار ریسنگ گیم کھیلنے کے قابل تھے۔ دو گھنٹے بعد وہ سونے چلے گئے۔ اگلی صبح جن بچوں نے گیم نہیں کھیلی تھی انھیں سبق کا تقریباً 80 فیصد حصہ یاد تھا جبکہ باقیوں کو محض 50 فیصد۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ڈیجیٹل آلات ہم انسانوں بالخصوص نوجوان نسل پر کس بری طرح سے اثرانداز ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ نسل زندگی کے چیلنجز سے کیسے عہدہ برا ہوگی؟

ہم میں سے ہر کوئی اپنے والدین کی ذہنی استعداد کا معترف ہے۔  کیا ہماری اگلی نسل کیلکولیٹر کے بغیر جمع و تفریق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ ہمارے والدین چشم تخیل ہی سے اچھا خاصا حساب کتاب کرلیتے تھے۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب یہ ڈیجیٹل آلات نہیں تھے۔ تب ہر کوئی زندگی کے مسائل پر غوروفکر کرتا تھا، اسی انداز میں مسائل کا حل بھی تلاش کرتا تھا لیکن اب ہمارے پاس غوروفکر کے لیے کوئی وقت بچتا ہے نہ ہی ہماری اگلی نسل کو اس غوروفکر کی اہمیت کا احساس ہے۔

مائیکل ڈیسمرگٹ کہتے ہیں کہ بچوں کا اسکرین ٹائم کم کرانے کے لیے، انہیں اس بحث میں شامل کرنا ضروری ہے۔ انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سکرینیں دماغ کو نقصان پہنچاتی ہیں، نیند خراب کرتی ہیں، زبان کی نشوونما روکتی ہیں، تعلیمی کارکردگی کو خراب کرتی ہیں، یکسوئی اور توجہ کو متاثر کرتی ہیں، جب کہ جسمانی عوارض پھلتے پھولتے ہیں۔

بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچےاور نوعمر افراد سے اس موضوع پر کھل کی بات کی جائے تو وہ قائل ہوتے ہیں اور اسکرین ٹائم کی زیادتی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ تاہم جب ہم خود اسکرینوں کے رسیا ہوں گے تو بچوں کو کیسے پیچھے ہٹنے کا کہہ سکتے ہیں۔ شاید ہمارے پاس یہ سب کچھ کہنے کا وقت ہی نہیں ہوگا۔

مائیکل ڈیسمرگٹ تجویز کرتے ہیں کہ چھ سال سے پہلے بچوں کی زندگی میں اسکرین ٹائم ہونا ہی نہیں چاہیے۔ لیکن جدید دور کی مائیں بچوں کو ڈیجیٹل آلات کے ذریعے ہی مصروف رکھتی ہیں، ان کے پاس اس سے اچھی کوئی دوسری تدبیر ہی نہیں ہوتی۔

فرانسیسی نیورو سائنس دان ایسے ماہرین کو بہت برا بھلا کہتے ہیں جو ڈیجیٹل آلات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ اس ’حوصلہ افزائی‘ کو اربوں ڈالرز کی ڈیجیٹل انڈسٹری سے جوڑتے ہیں جس کے منافع بخش ذرائع بچے اور نوعمر افراد ہی ہوتے ہیں۔

جو لوگ اس مسئلے پر غوروفکر نہیں کر رہے، یا اس کی روشنی میں بچوں کی زندگی میں سے اسکرین ٹائم کم نہیں کر رہے بالخصوص مائیں اپنے طرزعمل پر نظرثانی نہیں کررہی ہیں، ان کے بچے احمقانہ تفریح کے باوجود پریشان رہنے والے ہوں گے، وہ زبان سے محروم ہوں گے، دنیا اور اس کی زندگی پر غور و فکر کرنے سے قاصر ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp