آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت پی پی پی اور پی ایم ایل (این) کی بدولت قائم ہے؟

اتوار 2 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ اخلاقی اور قانونی بحرانوں سے بھرا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے ارکان، جنہوں نے پارٹی سے علیحدگی کا دعویٰ کیا اور فارورڈ بلاک بنانے کا اعلان کیا، درحقیقت موجودہ حکومت کی قیادت کرتے ہوئے ابھی تک اس سے باضابطہ طور پر وابستہ ہیں۔ یہ دوغلا پن حکومت اور اسمبلی دونوں کی قانونی و اخلاقی حیثیت کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا کیے ہوئے ہے، خاص طور پر جب سے نئی انتظامیہ 20 اپریل 2023 کو تشکیل دی گئی تھی۔

‎آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جن 23 ارکان نے موجودہ وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے سربراہی میں 20 اپریل 2023 کو اپنی جماعت سے الگ ہوکر فاروڈ بلاک قائم کرنے کا دعویٰ کرکے پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کی تھی وہ تمام اراکین اب بھی سرکاری طور پر پی ٹی آئی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

پی ٹی آئی سے ’علحیدگی‘کے بعد انوارالحق کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے اسمبلی سے ایک متنازع قانون بھی منظور کرایا جس کے تحت وفاداریاں تبدیل کرنے کو جائز قرار دیا گیا لیکن سرکاری ریکارڈ میں منحرف اراکین اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس دوران 25 جون 2023 کو 27 اراکین پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی تھی۔

‎ 31اکتوبر 2023 کو کابینہ اراکین کو پورٹ فولیو الاٹ کیے گئے، پھر 17 نومبر 2023 کو کابینہ میں توسیع کی گئی۔ بظاہر منحرف اراکین جو وزیر مقرر ہوئے اسمبلی کی ویب سائٹ پر پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں حالانکہ کہ وزرا کی تفصیل اسمبلی کی ویب سائٹ پر 3 مرتبہ اپ ڈیٹ ہوئی۔ اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود 53 ارکان کی فہرست میں بھی منحرف ارکان کو پی ٹی آئی کے ارکان کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ منحرف اراکین نے الیکشن کمیشن کے ساتھ باضابطہ طور پر خود کو آزاد امیدوار ظاہر نہیں کیا۔

‎حال ہی میں ایک ’منحرف‘ وزیر نے پی ٹی آئی سے وفاداری کا دعویٰ کیا تھا، بعد میں اپنا بیان واپس لے لیا۔ ‎پی ایم ایل این اور پی پی پی، پی ٹی آئی کو اپنی حریف جماعت سمجھتی ہے اور ان دونوں جماعتوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے اور یہ شرط رکھی کہ وہ چوہدری انوارالحق کو اسی صورت میں ووٹ دیں گے اگر وہ حمایتیوں سمیت پی ٹی آئی سی علحیدگی کا اعلان کریں گے۔

چوہدری انوارالحق نے پی پی پی اور پی ایم ایل ( این) ن کی شرط قبول کی اور ان کی سربراہی میں مخلوط قائم ہوئی۔ اگرچہ چوہدری انوارالحق اور ان کے ساتھیوں نے زبانی طور پر پر پی ٹی آئی سے الگ ہوکر فاروڈ بلاک بنایا لیکن سرکاری طور پر وہ سب آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس طرح سے آزاد کشمیر میں اقتدار کی خاطر پرانا پاکستان، نیا پاکستان اور ہمارا پاکستان اکھٹے ہیں اور اقتدار کے ثمرات سے فیضاب ہورہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ‎اسمبلی میں خواجہ فاروق کی قیادت میں حزب مخالف کی بینچوں پر بیٹھے پی ٹی آئی اراکین نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جس نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ‎اس صورت حال سے واضح ہوتا ہے کہ کس طرح پی ٹی آئی، پی ایم ایل این اور پی پی پی نے کشمیر میں اپنے حلقوں اور اسلام آباد میں اپنی قیادت دونوں کو دھوکا دیا۔ اس طرز عمل نے دنیا میں آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کے حقیقی کردار سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ 2034 سے قبل لاکھوں پاکستانی ورکرز کی تربیت کا بڑا منصوبہ

’ہم آپ کے شکر گزار ہیں ‘، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کے سفارتی کردار کا اعتراف

پاک امریکا تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم، امریکی چارج ڈی افیئرز نیٹالی بیکر کا اہم ویڈیو پیغام جاری

خواجہ آصف کا پارلیمنٹ میں سخت مؤقف، ’ویگو ڈالے‘ کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ

پاکستان کے معدنی ذخائر عالمی سرمایہ کاری کی توجہ کا مرکز، 6 کھرب ڈالر کے امکانات

ویڈیو

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

بلوچستان سے عالمی میدان تک، ثروت فاطمہ کا متاثر کن بیڈمنٹن سفر

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟