سعودی وزارتِ حج وعمرہ کی شاندار تاریخ

منگل 18 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ حج وعمرہ کی بنیاد 1381 ہجری، سن 1962 میں رکھی گئی تھی، اور یہ کابینہ کی سطح پر واحد وزارت ہے جس کا مرکزی دفتر مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ حجاج کرام کی آمد کے انتظامات کا آغاز بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیز بن عبد الرحمن آل سعود کے دور سے ہوا، جنہوں نے محکمہ عمومی حج کے قیام کا حکم دیا۔

اس کے بعد یہ ادارہ ترقی کرتا ہوا عمومی حج انتظامیہ، پھر وزارت حج اور اوقاف، اور آخر کار وزارت حج اور عمرہ کی صورت اختیار کر گیا۔ 1993 میں، ایک شاہی فرمان کے ذریعے اوقاف کے شعبے کو وزارت حج سے الگ کر دیا گیا، اور 2016 میں، اس وزارت کا نام تبدیل کرکے (وزارتِ حج وعمرہ) رکھا گیا۔

وزارت حج وعمرہ حجاج کے امور کو منظم کرتی ہے، جس میں پالیسیوں کا تعین، ان کے اثرات کا جائزہ، منصوبہ بندی اور نگرانی شامل ہے۔ حج کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے سروسز کی تشکیل کرتی ہے، حجاج کے حقوق کا تحفظ، اور ان کو فراہم کی جانے والی سروسز کی نگرانی کرتی ہیں۔ وزارت کا مقصد حجاج کرام کی خدمت اور ان کے تجربے کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ اپنے مقدس فریضے کو آسانی اور سکون سے ادا کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ میں 35 ممالک کی ملاقات، آبنائے ہرمز کھولنے پر غور

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟