جرمنی واقعہ میں ملوث شرپسند عناصر پاکستانی اور افغان شہریوں میں تصادم چاہتے ہیں، امیر مقام

پیر 22 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر سیفران امیر مقام نے جرمنی میں پاکستانی پرچم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں ملوث شرپسند عناصر پاکستانی اور افغان شہریوں میں تصادم چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان پر کئی دہشتگرد اور خودکش حملے ہوئے جن میں ان کے کئی رشتے دار اور سیکیورٹی کے لوگ شہید ہوئے، آج وہ لوگ کیسے امن کی بات کرسکتے ہیں جنہوں نے آج تک دہشتگردی کا واقعہ دیکھا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان قوم احسان فراموش، کیا جرمنی واقعے کے بعد بھی مہاجرین کی میزبانی بنتی ہے؟ وزیر دفاع خواجہ آصف

امیر مقام نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دہشتگردی کی وجہ سے آئی ڈی پی پی اور مہاجر بنے لیکن ہم نے ہمیشہ دہشتگرد کے خلاف بات کی، لوگوں کو کم از کم امن کے مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے بلکہ دہشتگردی کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔

’یہ صرف ایک فرد کو اڈیالہ سے نکال کر اقتدار میں لانا چاہتے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ جو عناصر امن کے نام پر سیاست کررہے ہیں انہیں پاکستان کی معیشت، اس کے عوام کے مسائل کے حل یا ملک کے امن و امان کی نہیں بلکہ ان لوگوں کی فکر کا محور صرف ایک شخص ہے کہ اسے کس طرح جیل سے نکالا جائے اور اقتدار میں لایا جائے اور ایسا کرنے میں اگر پاکستان ہاتھ سے نکل بھی جائے تو کوئی بات نہیں۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ وہ آرمی یا کسی اور کے وکیل نہیں، دل سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر شرپسندوں نے اس خاکی وردی کو اتنا بدنام کیا تو یہ ایک فرد کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوم اور پاسکتان کے ساتھ زیادتی ہوگی، اس خاکی وردی کو پہننے والے شہید ہورہے ہی۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی پاکستانی قونصل خانے پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے، پاکستان کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی دہشتگردی کا مقابلہ کررہے ہیں، جب قوم زلزلے یا سیلاب جیسی مشکلات کا سامنا ہو تو لوگ فوج کے جوانوں کو کہتے ہیں آؤ اور ہمیں بچاؤ۔

’ایک پارٹی فوج کو بدنام کرنا چاہتی ہے‘

وفاقی وزیر سیفران نے کہا کہ صرف ایک پارٹی ایسی ہے جس میں ایسے لوگ ہیں جو فوج کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور فوج اور عوام میں فاصلہ پیدا کرکے نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں، یہ اس ملک سے زیادتی ہے کہ ہر چیز فوج کے کھاتے میں ڈال دو۔

انہوں نے کہا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے پوچھتا ہوں کہ آپ جب سے آئے ہیں آپ نے امن کے لیے کیا کیا، کتنے کابینہ اجلاس بلائے اور کیا اقدامات کیے، آج تک ایسی کوئی اچھی بات سننے میں تو آئی نہیں، آپ کو تو بس ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ملک رہے نہ رہے اڈیالہ سے ایک شخص باہر آجائے۔

یہ بھی پڑھیں: کچھ قوتوں نے بنوں امن مارچ کو سیاست کی نذر کیا، اب پروپیگنڈا ہورہا ہے، وزیر اطلاعات

امیر مقام نے کہا کہ اگر ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے، وزیراعظم اور آرمی چیف اگر ملکی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہے، اگر آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل طے پارہی ہے، اسٹاک ایکسچینج بہتر اور باہر سے سرمایہ کار آرہے ہیں تو اس میں آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے، ہر چیز کا الزام فوج پر ڈالنا یا ہر نقصان ان کے کھاتے میں لکھنا بہت زیادتی اور ناانصافی ہے۔

’بنوں واقعہ میں ایک پارٹی کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں‘

انہوں نے کہا کہ آپ ملک کے خلاف سازش کررہے ہو جس کے ثبوت سب کے سامنے ہیں، بنوں میں تاجروں اور دوسرے لوگوں کا احتجاج کا حق ہے مگر اس میں اپنے لوگوں کو شامل کرنا اور ایک ادارے کو ٹارگٹ کرنا، ان سب کی ویڈیوز موجود ہیں سب سامنے آجائے گا، اس احتجاج میں اسلحہ کہاں سے آیا، 9 مئی کا سانحہ آپ کی خواہش تھی جو پوری نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر نے پشاور میں ریڈیو پاکستان اور پاک فوج کی تنصیبات کو جلانے اور شہدا کے مجسموں کی بےحرمتی سمیت 9 مئی سانحہ کے مختلف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قیدی 804 کا پلان یہی تھا کہ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں لاشیں گر جائیں، آج دوبارہ پھر وہی شروع کردیا ہے، احتجاج میں شامل ہونا قابل مذت ہے۔

’بنوں واقعہ پر جے آئی ٹی بننی چاہیے’

آپ کہتے ہیں آپ انکوائری کروائیں گے، واقعہ میں جب آپ خود ملوث ہیں تو کیا انکوائری کریں گے، وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ اس واقعہ کی جے آئی ٹی بننی چاہیے جس میں پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر اداروں کے لوگ شامل ہوں، سامنے آجائے گا کہ کون مجرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں واقعہ پی ٹی آئی نے خود کیا، یہ چاہتے تھے الزام فوج پر لگ جائے، وزیر اطلاعات

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا مسئلہ پورا ملک خصوصاً خیبرپختونخوا سامنا کررہا ہے، آپ کہتے ہیں ہم آپریشن کو نہیں مانتے، اگر ایسا ہے تو دہشتگردی کا مقابلہ کون کرے گا، آپ کے پاس ایسے کون سے ذرائع ہیں، پاکستان آپ کی جاگیر نہیں، آپ نے اپنے قول و فعل سے ثابت کردیا کہ آپ کی گورننس پر توجہ نہیں، آپ کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سیکھنا چاہیے۔

امیر مقام نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سوال کرتا ہوں کہ آپ صوبے کے عوام کے لیے کیا کام کررہے ہیں، گندم  اور دوسرے اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں، آپ بجلی کے لیے محسن نقوی سے مل سکتے ہیں تو کیا لا اینڈ آرڈر کے لیے ان سے نہیں مل سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp