اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے عوام پر مظالم ڈھائے جانے پر جہاں مسلمان ممالک میں غم و غصہ ہے، وہیں مختلف طریقوں سے اسرائیل کی مذمت بھی کی جارہی ہے، ان میں سب سے اہم اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں اسرائیلی مصنوعات کے کامیاب بائیکاٹ کے بعد اشیا اور کھانوں پر کتنا ڈسکاؤنٹ مل رہا ہے؟
گیلپ پاکستان نے ایک سروے کے نتائج جاری کیے ہیں، جس کے مطابق 62 فیصد پاکستانیوں نے کہاکہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے، جبکہ 24 فیصد نے کہاکہ مصنوعات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔
سروے کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ان میں 30 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی اکثریت ہے، اور اس عمر کے 67 فیصد افراد نے بائیکاٹ کرنے کا بتایا۔
اس کے علاوہ 30 سے 50 سال کی عمر کے 59 فیصد جبکہ 50 سال سے زیادہ عمر کے 56 فیصد پاکستانیوں نے دعویٰ کیاکہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گیلپ پاکستان کے سروے میں 65 فیصد مرد جبکہ 58 فیصد خواتین اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتی دکھائی دیں۔
جن لوگوں نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا، ان کی شرح شہری آبادی میں زیادہ ہے، شہروں میں 68 فیصد جبکہ دیہات میں 59 فیصد نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیں ’اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ چاہتے ہیں‘، مردان میں انٹرنیشنل فوڈ چین کی برانچ بند کروادی گئی
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے ایک آپریشن کے بعد سے اسرائیل اور حماس کی لڑائی جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 36 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔














