اب صرف فل کورٹ! فل کورٹ ورنہ صرف پچھتاوا، خورشید شاہ

ہفتہ 1 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ضد اور انا نے ملک کو دلدل تک پہنچایا ہے۔ سیاسی بحران کو حل کرنے کی بجائے سنگین آئینی بحران پیدا کر دیاگیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو مسلط کرنا ہی ملک کودرپیش خرابی کی اصل بنیاد ہے۔

’سیاسی بحران کی ذمہ داری کا حقیقی تعین کرنا ہے تو جنرل پاشا سے احتساب شروع کریں ، جنرل ظہیر اسلام ، جنرل فیض سب نے عمران خان کی آبیاری کی۔‘

خورشید شاہ کے مطابق سیاسی بحران پیچھے رہ گیا اور آئینی بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آئینی وسیاسی بحران کے حل کیلئے کوئی ادارہ بچا نہ شخصیت۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہم بندگلی میں پہنچ چکے ہیں۔ اگر کوئی راستہ بن سکتا تو وہ فل کورٹ ہے۔ فل کورٹ کے ذریعے عدلیہ آئینی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرے۔

’سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے ذریعے راستہ نہ نکالا تو پھر کوئی راستہ نہیں نکلنا، بار بار کہہ رہا ہوں، اب صرف فل کورٹ! فل کورٹ ورنہ صرف پچھتاوا۔‘

خورشید شاہ کے مطابق آئینی و سیاسی معاملات بند گلی میں چلے جائیں تو گھڑی کی ٹک ٹک شروع ہو جاتی ہے۔

’تجربے سے بتا رہاہوں کہ وقت بہت کم ہے، حل نہ نکالا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کچھ غلط ہوا تو اہم ادارے ذمہ دار ہوں گے۔‘

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی وزارتِ سیاحت کا مہمان نوازی مراکز اور ہوٹلوں کے معائنے تیز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

مشرق وسطیٰ کشیدگی: خطے میں ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ گئیں مگر پاکستان میں استحکام، وجوہات کیا ہیں؟

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

سینٹ پیٹرک ڈے، صدر مملکت آصف علی زرداری کی  آئرلینڈ کے عوام کو دلی مبارکباد

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا