کہا جارہا ہے عمران خان پر ریڈ لائن لگا دی، میں یہ لائن مٹا کر دکھاؤں گا، عمران خان

بدھ 11 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ ہمارے لوگوں کو ڈرایا جارہا ہےکہ عمران خان پر ریڈ لائن لگا دی اور اسے مائنس کردیا، ہمارے لوگوں کوکہا گیا کہ ن لیگ میں جائیں، ہمارے اراکین کودھمکیاں اورپیسوں کا لالچ دیا گیا۔

لاہور میں پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہےکہ عمران خان کو مائنس کر دیا ہے، جس کو بھی یہ تکبر ہے اسےکوئی عقل نہیں، اسے ریڈ لائن مٹا کر دکھاؤں گا، اسے پتہ نہیں کہ عوام کہاں کھڑے ہیں، ملک میں کسی پر بھی ریڈ لائن لگانےکا حق صرف عوام کو ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے اتحادیوں کو بھی دھمکیاں دی گئیں، ہمارے لوگوں کوکہا گیا کہ ن لیگ میں جائیں، ہمارے اراکین کو دھمکیاں اور پیسوں کا لالچ دیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت سازش کے تحت گرائی گئی، 2023 الیکشن کا سال ہے، ہمیں فوری الیکشن کرانا ہے، 1999 میں بھی جب مسلم لیگ ن کی حکومت گئی تو معیشت دیوالیہ تھی، ہمیں معلوم ہے یہ کس کا خیال تھا کہ شہباز شریف جینیئس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آزاد خارجہ پالیسی لےکر آرہے تھے،کئی لوگوں کویہ بات پسند نہیں آئی، ہم عدلیہ پرتنقید نہیں کرنا چاہتے، چاہتے ہیں عدلیہ مضبوط ہو، ہم عدلیہ کی طرف ہی دیکھیں گے، ہم نے 26 سال کب انتشارپھیلایا ہے؟ 26 نومبرکو ہمارے لاکھوں لوگ راولپنڈی میں تھے، پولیس انہیں نہیں روک سکتی تھی۔

انہوں نےکہا کہ آصف زرداری عوام میں نہیں نکل سکتے، پیپلزپارٹی کے لوگ زرداری کی تصویر نہیں لگاتےکہ ووٹ نہیں ملیں گے، زرداری لاہور میں خریدوفروخت کرنےکے لیے آئے تھے، پنجاب کے اراکین پر فخرہے، زرداری کو ناکامی ہوئی اور ہمارے لوگوں نے ان کو مسترد کردیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ تھا کہ مارچ کے دوران مجھ پرحملہ کریں گے، جب وزیرآباد پہنچے توپولیس موجود نہیں تھی، دو تین ہفتے لگیں گے، جیسے ہی میری ٹانگ ٹھیک ہوگی میں پھرعوام کےدرمیان سڑکوں پر ہوں گا، ہم دو اسمبلیاں قربان کر رہے ہیں، دواسمبلیاں توڑنے کے بعد کوشش ہے کہ دونوں صوبوں میں الیکشن ہو، دونوں صوبوں میں بھاری اکثریت سےکامیاب ہوں گے جس کے بعد بڑے فیصلے طاقت سے کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp