چند روز قبل چیٹ جی پی میں کچھ اپڈیٹس کا اعلان کرتے ہوئے اوپن اے آئی نامی کمپنی نے کچھ نئی اضافی سہولیات یعنی پلگ انز متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس سے چیٹ جی پی ٹی کی چند بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ ممکن ہوجائے گا۔
اس سے قبل چیٹ جی پی ٹی آپ کے کسی بھی سوال کا جواب 2021ء تک کے ڈیٹا کی بنیاد پر دیتا رہا ہے یعنی اسے 2021ء سے آگے کی دنیا کے بارے میں سر دست کچھ علم نہیں ہے۔
تاہم نئے پلگ انز کے متعارف ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر دستیاب تمام حالیہ معلومات چیٹ جی پی ٹی اپنے ریکارڈ اور جوابات کا حصہ بنا پائے گا۔ ویسے اس سہولت کے استعمال کے لیے فی الحال آپ کو انتظار کی ایک فہرست کا حصہ بننا پڑے گا کیونکہ مطلوبہ سہولت تمام صارفین کے لیے میسر نہیں۔
یہی نہیں کوڈ اِنٹرپریٹر یعنی وہ پروگرام جو کسی کوڈ کو چلا کر آؤٹ پُٹ دیتا کی سہولت بھی چیٹ جی پی پر استعمال کی جاسکے گی، جو کوڈنگ کرنیوالے حضرات کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ کیا پروگرامنگ سے نابلد افراد بھی اس سے مستفید ہوپائیں گے؟ یہ تو بلی کے تھیلے سے باہر نکلنے پر ہی پتا چلے گا۔
خیر پلگ اِنز کی ویٹنگ لِسٹ میں شامل ہونے کے لیے
https://openai.com/waitlist/plugins
پر Join Plugin Waitlist
کے بٹن پر ٹیپ کرکے اپنی معلومات داخل کریں۔
خیر یہ تو تھا اوپن اے آئی کا اس کے چیٹ باٹس کی خصوصیات میں کیا گیا تازہ ترین اضافہ۔ مگر ہمارے لیے چیٹ جی پی ٹی اور جی پی ٹی 4 کیسے اہم ہیں اور جی پی ٹی 4 چیٹ جی پی ٹی سے کیسے اور کتنا بہتر ہے؟ آئیں کھوجتے ہیں۔
روزمرہ استعمال کی بات کی جائے تو آپ اس سے کھانا بنانے کی ترکیب سے لے کر ڈرائیونگ سیکھنے کا طریقہ تک سبھی پوچھ سکتے ہیں مگر بہتر یہی ہے کہ یہ دونوں کام آپ باہر نکل کر عملی طور پر تجربہ کرکے سیکھیں۔
آپ اپنے آفس کے اسائنمنٹس چیٹ جی پی ٹی سے بنوا سکتے ہیں مگر ظاہر ہے وہ آپ کی ضروریات کے عین مطابق نہیں ہوگی اور آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق بہت سی تبدیلیاں کرنی پڑسکتی ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ آپ کوڈنگ سیکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں یہی نہیں آپ چیٹ بوٹ کو کسی خاص فیلڈ کے لیے کوڈنگ کا پروجیکٹ بتانے اور پھر اس کا کوڈ لکھنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ مگر یہاں شروع ہوتی ہیں چیٹ جی پی ٹی کی محدودیت یا اس کے ٹھیک کام کرنے کی صلاحیت کی حدود۔
اگر کوڈ پیچیدہ ہے تو ضروری نہیں کہ وہ کام بھی کرے۔ مگر پھر بھی آپ کو ایک بنیادی فریم ورک مل جاتا ہے جس میں تبدیلیوں کے بعد آپ اپنا کام نکال سکتے ہیں۔
گوکہ جی پی ٹی 4 ابھی عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں مگر ایک اوپن اے آئی کی ڈیویلپرز کے لیے کیے گئے لائیو ڈیمو میں دیکھا گیا کہ نہ صرف جی پی ٹی 4 میں مرئی اِن پُٹ لینے کا آپشن ہے بلکہ وہ ایک رومال پر بنی تصویر کے مطابق ویب سائٹ کا آؤٹ پُٹ بھی فراہم کرسکتی ہے۔
ایسے ہی محققین کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی کافی کارآمد ثابت ہوا ہے۔ مطلب یہ آپ کو ریسرچ پیپر کا بنیادی ڈھانچہ بنا کر دے سکتا ہے مگر یہ آپ کو اس کے فراہم کردہ مواد یعنی ڈیٹا کے درست ذرائع نہیں بتا سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اس نے حاصل کردہ مواد کو ازسرِ نو تحریر کیا ہے یا ہوبہو نقل۔ سو یہ چیٹ بوٹ ایپلیکیشن آپ کے کسی کام کی نہیں۔ ایک اور بات یہ کہ یہ 2021ء سے پہلے تک کے ڈیٹا کا استعمال کرسکتا تھا کیونکہ جی پی ٹی 4 آزادانہ دستیاب نہیں سو ذرائع کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
حالیہ متعارف کرائے گئے پلگ اِنز کیساتھ یہ انٹرنیٹ استعمال کر پائے گا تو عین ممکن ہے اس کا فراہم کردہ جواب حالیہ مواد پر مبنی ہو مگر وہ مواد بھی انہی ویب سائٹس سے حاصل کرنا اس کے لیے ممکن ہوگا جہاں چیٹ جی پی ٹی کو رسائی ملے گی۔
مگر یہاں بھی آپ اصل ذرائع معلوم کر پائیں گے یا نہیں اس کا جواب تو ہم جی پی ٹی 4 تک رسائی کے بعد ہی جان سکیں گے۔
اسی طرح تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کے لیے کافی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ مطلب، ٹھیک ہے لیکچر تیار کرنے میں یا کورس کنٹینٹ سیٹ کرنے میں آپ کو اس سے مدد مل سکتی ہے مگر اگر آپ پیپر چیٹ جی پی ٹی سے سیٹ کرائیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کے شاگرد بھی یہ کام کرکے ساتھ ہی ’یہ پرچہ حل کردو‘ کی کمانڈ دے کر صرف یہی سوال ازبر کرچکے ہوں۔
گوکہ چیٹ جی پی ٹی ایک ہی سوال کا مختلف ڈیوائیسز پر بالکل ایک ہی جواب نہیں دیتا مگر جواب میں مماثلت انتہائی ممکن ہے۔ مطلب میں نے جب چیٹ جی پی ٹی کو 5 مختلف ڈیوائسز پر ڈیجیٹل لاجک اینڈ ڈیزائن کے لیے انکوڈر ڈیکوڈر اور ملٹی پلیکسر سے متعلق 5 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ ترتیب دینے کے لیے کہا تو 2 سوالات 2 مختلف ڈیوائسِز میں ہو بہو شامل سامنے آئے۔
اس کے علاوہ ہوسکتا ہے اگر پروفیسر حضرات کسی بھی قسم کے اسائنمنٹ یا سرگرمی دیں تو بہت زیادہ ممکن ہے وہ طلبا کی نہیں بلکہ چیٹ جی پی ٹی پر حل کیے گئے اسائنمنٹ چیک کر رہے ہوں۔
گو بہت سے سافٹ ویئرز دستیاب ہیں جو اے آئی اور انسانی کام میں فرق کرسکتے ہیں جیسے بہت وقتوں سے پلیجرازم یا ادبی سرقہ کی نشاندہی کرنیوالے سافٹ ویئر ٹرن اِٹ اِن کو بھی اے آئی کی شمولیت کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حالیہ خبروں کے مطابق ان کا اپریل کے مہینے میں رول آؤٹ ہونے والا سافٹ ویئر 97 فیصد تک مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی کے ملوث ہونے کی درست نشاندہی کے قابل ہوگا، تاہم جی پی ٹی 4 آنے کے بعد ٹرن اِٹ اِن کا یہ دعویٰ کہاں کھڑا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
اس تناظر میں طلبہ خود کو چیٹ جی پی ٹی کا عادی ہونے سے بچائیں کیونکہ یہ جگاڑ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتی۔ دوسرا وہ پرانا طریقہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ جس کا اسائنمنٹ ہے اس کو اپنی اسائنمنٹ پر بحث کی دعوت دی جائے تو سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔
آپ چیٹ جی پی ٹی سے اردو سمیت ان گنت زبانوں میں بات کرسکتے ہیں۔ مزے کی بات اردو میں بات کرنے سے اندازہ ہوا کہ بوٹ اپنے لیے مذکر کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔ وہ لوگ جو کہانیوں کے شوقین ہیں ان کے لیے کوئی خاص اچھی خبر نہیں ہے۔
میں نے جب چیٹ جی پی ٹی کو عمرو عیار کی کوئی کہانی سنانے کے لیے کہا تو کوئی بہت ہی بے رنگ سا قصہ وہ بھی گرامر کی بے تحاشا غلطیوں کے ساتھ پڑھنے کو ملا۔ جس میں نہ تو عمرو عیار کی روایتی زنبیل تھی نہ عیاری اور تو اور عمرو عیار کی بیٹی کی کہانی میں دیو کے عمرو عیار کی بیٹی کے اغوا سے شروع ہونے والی کہانی کا اختتام چیٹ بوٹ نے خاتون کی بازیابی کے بغیر ہی کردیا۔
اب ہم کہانیوں سے تو کوئی خوش آئند انجام کی توقع رکھ ہی سکتے ہیں سو میں نے پوچھا کیا آپ الجھ گئے ہیں تو جواب نفی میں ملا۔ کہانی مکمل کرنے کا کہنے پر جواب میں خاتون کی فی الفور بازیابی اور عمرو عیار سے متعلق دو چار اور بے جوڑ جملوں کے بعد ’اور یہاں کہانی کا اختتام ہوتا ہے‘ کا جواب آیا۔ مگر پھر بھی دیکھ کر امید بندھی کہ شاید مستقبل میں اس صنف میں بھی بہتری آئے۔

تاہم جی پی ٹی 4 کے رول آؤٹ ہونے کے بعد میں نے چیٹ جی پی ٹی پلس میں یہی عمل دہرایا تو عمرو عیار کی کہانی کا معیار پہلے سے بھی زیادہ گرچکا تھا مگر ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اب اس کہانی میں اِنکوڈر ڈی کوڈر شامل ہوگئے تھے مطلب اس کا ایلگورتھم صارف کی دلچسپی کے مطابق اس کےساتھ کیے گئے گزشتہ ابلاغ کے مطابق جواب دیتا ہے، تاہم یہ الگورتھم کونسی معلومات کو اہم سمجھتا ہے اور اس کا استعمال کیسے اور کہاں کرتا ہے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے۔
اردو کی کہانیاں شامل نہ ہونے پر کچھ زیادہ تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان چیٹ بوٹس کے پیچھے کام کرنیوالے ڈیپ لرنِنگ ماڈلز یا نیورل نیٹ ورکس کی دستیاب ڈیٹا پر تربیت کی گئی ہے۔
اب جس زبان اور ثقافت کا ڈیٹا زیادہ بآسانی دستیاب ہے ظاہر سی بات ہے ماڈل اس ثقافت کے لیے نسبتاً بہتر طور پر تربیت یافتہ ہے سو مغربی ثقافت کے لیے جواب نسبتاً بہتر آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔

سو چیٹ جی پی ٹی کے ریلیز ہونے کے بعد وہ اصطلاح بہت سُننے میں آئی کہ چیٹ جی پی ٹی کئی زبانوں سے شناسا سہی مگر اس کی ثقافت سے آگہی بس ایک ہی تک محدود ہے تاہم یہ آپ کی اقدار سیکھ رہا ہے۔
زیادہ تر جہتوں میں جی پی ٹی 4 چیٹ جی پی ٹی سے بہت بہتر ہے۔ عام سمجھ بوجھ کے سوال حل کرنے سے لے کر ممنوعہ یا حساس ڈیٹا تک رسائی کی روک تھام ان سب معاملات میں جی پی ٹی 4 بہتر طور پر تربیت یافتہ ہے اور اوپن اے آئی نے جس رفتار سے اس میں جدت متعارف کرائی ہے لگتا ہے کہ یہ برتری اور بڑھے گی۔














