اب پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا، بڑی خوشخبری آگئی

جمعہ 20 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تقریباً ایک سال کا عرصہ ہونے کو ہے، ملک میں پاسپورٹ بنوانے کے لیے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، ارجنٹ فیس دینے کے باوجود مہینوں تک پاسپورٹ بن کر نہیں آرہے، تاہم اب خوشخبری سامنے آئی ہے کہ شہریوں کی پریشانی کا جلد خاتمہ ہو جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر، 5 لاکھ سے زائد درخواست دہندگان متاثر

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی نے کہا ہے کہ اب پاسپورٹ بنوانے والوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ کراچی، اسلام آباد، لاہور سمیت بڑے شہروں میں پاسپورٹس کا بیک لاک ختم ہوگیا، جبکہ بیرون ملک سے اپلائی کرنے والوں کے پاسپورٹس بھی بن گئے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ 24 ہزار سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاسپورٹس مل گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں علامہ محمد اسد: پہلے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر کی کہانی

مصطفیٰ جمال قاضی نے کہاکہ روزانہ 65 ہزار پاسپورٹس پراسس ہوتے ہیں، لیکن پرنٹنگ 23 ہزار ہورہی تھی، جس کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا، اب ایک ماہ میں نئے پرنٹرز کی شپمنٹ پاکستان آنے کی امید ہے جس کے بعدمعاملہ نارمل ہوجائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موت کے بعد باپ کا خفیہ خاندان بے نقاب! ، کروڑوں کی وراثت کس کے حصے میں آئی؟

بیٹی سارہ کی سالگرہ پر سچن ٹنڈولکر نے کیا انوکھی خواہش ظاہر کردی؟ دلچسپ پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

فٹبال میچ میدانِ جنگ بن گیا، ایک ہی مقابلے میں 53 ریڈ کارڈ جاری، گنیز ورلڈ ریکارڈ ٹوٹ گیا

ایم پی او کے تحت گرفتاریوں پر پشاور ہائیکورٹ کا حکم معطل، وفاقی آئینی عدالت کا حکم امتناع

بلوچستان پولیس میں تمام بھرتیاں سو فیصد میرٹ پر ہوئیں، ڈی آئی جی عمران شوکت

ویڈیو

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟