خیبر پختونخوا میں بٹیر کے شکار پر پابندی اٹھا لی گئی

جمعہ 27 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا (کے پی) کے محکمہ جنگلی حیات نے بٹیر کے شکار پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔

جمعے کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شکاریوں کو اب 30 نومبر تک کچھ شرائط کے تحت بٹیر کے شکار کی اجازت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قلعہ سیف اللہ: نایاب پرندے خطرے میں، شکار پر سخت کارروائی کا فیصلہ

نئے ضوابط کے مطابق شکار کی اجازت ہفتے میں صرف 3 دن یعنی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو ہوگی۔ شکاریوں کے پاس ایک درست لائسنس ہونا ضروری ہے اور وہ روزانہ 15 سے زیادہ بٹیروں کا شکار نہیں کر سکتے۔ شکار کے لیے برقی آلات کا استعمال سختی سے ممنوع ہے۔

اگست کے شروع میں خیبرپختونخوا کے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے خطرے سے دوچار پرندوں کی انواع کے تحفظ کی کوشش میں بٹیر کے شکار پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت اجازت نامے اور لائسنس جاری نہیں کیے جا رہے تھے اور اس فیصلے سے صوبے بھر کے تمام علاقائی کنزرویٹرز کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔

بٹیر پاکستان میں پرندوں کی ایک مشہور نسل ہے۔ ملک کے سازگار ماحول کی وجہ سے یہاں بٹیر کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر کے مچھیارہ نیشنل پارک میں نایاب پرندے ریاڑ کی تعداد دوگنی کیسے ہوگئی؟

پابندی عارضی طور پر اٹھائے جانے سے شکاری بٹیر کے شکار کی جانب راغب ہوں گے تاہم محکمہ جنگلی حیات شکار کی سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھے گا۔

دوسری جان پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے نومبر تک بطخوں اور مرغابی کے شکار پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: پرندے ہرن کے دوستانہ رویے سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں؟

ایک بیان میں انتظامیہ نے کہا کہ بطخوں اور مرغابیوں کے شکار، تجارت اور نقل و حمل پر مکمل پابندی ہے۔ یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ اور خطے میں پائیدار ماحولیاتی طریقوں کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ